Showing posts with label نظم طباطبائی. Show all posts
Showing posts with label نظم طباطبائی. Show all posts

Friday, 11 September 2020

انگڑائیوں میں پھیلتے ہیں بار بار ہاتھ

انگڑائیوں میں پھیلتے ہیں بار بار ہاتھ
شیشہ کی سمت بڑھتے ہیں بے اختیار ہاتھ 
ڈوبے ہیں ترک سعی سے افسوس تو یہ ہے 
ساحل تھا ہاتھ بھر پہ لگاتے جو چار ہاتھ 
آتی ہے جب نسیم تو کہتی ہے موج بحر 
یوں آبرو سمیٹ اگر ہوں ہزار ہاتھ 

Thursday, 10 September 2020

جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر

جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر
تو اٹھے ہیں دھواں ہو کر، گرے ہیں بجلیاں ہو کر
کچھ آگے بڑھ چلی سامانِ راحت لامکاں ہو کر
فلک پیچھے رہا جاتا ہے گردِ آسماں ہو کر
کسی دن تو چلے اے آسماں بادِ مراد ایسی
کہ اتریں کشتئ مے پر گھٹائیں بادباں ہو کر

Wednesday, 9 September 2020

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
اپنے دل کو فگار کر بیٹھے
صبر کی اک قبا جو باقی تھی
اس کو بھی تار تار کر بیٹھے
آج پھر ان کی آمد آمد ہے
ہم خزاں کو بہار کر بیٹھے

Tuesday, 8 September 2020

چمکا خدا کا نور عرب کے دیار میں

چمکا خدا کا نور عرب کے دیار میں
پھیلی شعاع ہند میں چین و تتار میں
پہنچا ستارہ اوج پہ دینِ حسین کا
اب تک تھا گردشِ فلکِ کج مدار میں
چونکیں ذرا یہود و نصاریٰ تو خواب سے
آئی نسیم صبحِ شبِ انتظار میں

Monday, 7 September 2020

اتنا ہی شکر نعمت و راحت میں چاہیۓ

اتنا ہی شکر نعمت و راحت میں چاہئے
جتنا کہ صبر رنج و مصیبت میں چاہئے
جتنی شراب محفلِ عشرت میں چاہئے
اتنا ہی خونِ دل غمِ فرقت میں چاہئے
مے کش ہو رندِ مست  ہو شاہد پرست ہو
ہاں سمعہ و ریانہ عبادت میں چاہئے

Saturday, 8 August 2020

ساقیا خالی نہ جائے ابر یہ آیا ہوا

ساقیا! خالی نہ جائے ابر یہ آیا ہُوا
ہو رہے ہیں سرخ شیشے، دل ہے للچایا ہوا
داغِ دل چمکا جو اس کے طالبِ دیدار کا
جھلملاتا ہے چراغِ طور، شرمایا ہوا
عاشقوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہو کیا محشر میں بھی
دھوپ میں پھرنے سے ہے کچھ رنگ سنولایا ہوا

اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے

اڑا کر کاگ شیشہ سے مۓ گلگوں نکلتی ہے
شرابی جمع ہیں مے خانہ میں ٹوپی اچھلتی ہے
بہارِ مے کشی آئی، چمن کی رت بدلتی ہے
گھٹا مستانہ اٹھتی ہے ہوا مستانہ چلتی ہے
زخود رفتہ طبیعت کب سنبھالے سے سنبھلتی ہے
نہ بن آتی ہے ناصح سے، نہ کچھ واعظ کی چلتی ہے

Friday, 7 August 2020

ہے آشنا وہ جو کہنے پہ آشنا کے چلے​

بسان نگہتِ گل ساتھ ہم صبا کے چلے​
ہے آشنا وہ جو کہنے پہ آشنا کے چلے​
فضائے دیر میں ہم مثلِ برق آ کے چلے​
تڑپ کے کاٹ دیا وقت مسکرا کے چلے​
روا روی میں ہیں ہم سن لو قافلے والو​
کہ جس کو ساتھ ہو دینا قدم اٹھا کے چلے​

پرسش جو ہو گی تجھ سے جلاد کیا کرے گا

پُرسش جو ہو گی تجھ سے جلاد کیا کرے گا
لے خون میں نے بخشا تُو یاد کیا کرے گا
ہوں دام میں پر افشاں اور سادگی سے حیراں
کیوں تیز کی ہیں چھریاں صیاد کیا کرے گا
ظالم یہ سوچ کر اب دیتا ہے بوسۂ لب
جب ہونٹ سی دیئے پھر فریاد کیا کرے گا

Wednesday, 5 August 2020

زندگی کیا ہے اک افسانہ کا دہرا جانا

زندگی کیا ہے اک افسانہ کا دُہرا جانا
موت کہتے ہیں کسے زیست سے اکتا جانا
یاد ہے بزمِ مسرت میں تِرا آ جانا
جلوۂ حسن سے وہ شمع کا شرما جانا
کبھی آنے نہ دیا خاطرِ نازک پر ملال
مجھے دیکھا نہ گیا پھول کا کمہلا جانا

سوا جلوہ کے تیرے اور میرے دل میں کیا ہوتا

سوا جلوہ کے تیرے اور میرے دل میں کیا ہوتا
سمجھتا اس کو بت خانہ، جو نقش ماسوا ہوتا
کسی کا ذکر کر کے اس قدر لی چٹکیاں میں نے
گلِ خود رو چمن میں ہنستے ہنستے رو دیا ہوتا
وہ برہم ہو گئے، زلفیں ذرا رخ سے جو سرکائیں
خطا گر اور کچھ ہوتی، نہیں معلوم کیا ہوتا؟