کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
اپنے دل کو فگار کر بیٹھے
صبر کی اک قبا جو باقی تھی
اس کو بھی تار تار کر بیٹھے
آج پھر ان کی آمد آمد ہے
وائے اس بت کا وعدۂ فردا
عمر بھر انتظار کر بیٹھے
خود جو غم ہیں تو آئینہ حیراں
کس غضب کا سنگھار کر بیٹھے
ہم تہی دست تجھ کو کیا دیتے
جان تجھ پر نثار کر بیٹھے
حیدر نظم طباطبائی
No comments:
Post a Comment