Wednesday, 9 September 2020

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
اپنے دل کو فگار کر بیٹھے
صبر کی اک قبا جو باقی تھی
اس کو بھی تار تار کر بیٹھے
آج پھر ان کی آمد آمد ہے
ہم خزاں کو بہار کر بیٹھے
وائے اس بت کا وعدۂ فردا
عمر بھر انتظار کر بیٹھے
خود جو غم ہیں تو آئینہ حیراں
کس غضب کا سنگھار کر بیٹھے
ہم تہی دست تجھ کو کیا دیتے 
جان تجھ پر نثار کر بیٹھے

حیدر نظم طباطبائی

No comments:

Post a Comment