ہاں مجھے گوارا ہے، عشق کا سفر تنہا
اس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہا
زیست ہے مگر سُونی، عشق ہے مگر تنہا
چشم سر بسر ویراں قلب سر بسر تنہا
وہ جمال کی تابش جیسے نور کی بارش
حسن یار کی یورش اور مِری نظر تنہا
ہاں مجھے گوارا ہے، عشق کا سفر تنہا
اس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہا
زیست ہے مگر سُونی، عشق ہے مگر تنہا
چشم سر بسر ویراں قلب سر بسر تنہا
وہ جمال کی تابش جیسے نور کی بارش
حسن یار کی یورش اور مِری نظر تنہا
اب میں پیام فصل بہاراں کو کیا کروں
دامن کہاں سے لاؤں گریباں کو کیا کروں
تاثیر سوزش غم پنہاں کو کیا کروں
رنگ پریدۂ رخ جاناں کو کیا کروں
پیدا یہیں سے میرا نشیمن بھی ہو تو جائے
بے اعتبارئ غم زنداں کو کیا کروں
کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤ
اس جنسِ گراں کو سر بازار تو لاؤ
تمثیلِ جمالِ نگہِ یار تو لاؤ
ممکن ہو جوابِ لب و رخسار تو لاؤ
لو نام نہ یارو کہ بغاوت ہے بڑی شے
تم پہلے ذرا جرأتِ گفتار تو لاؤ
بے سبب عشق کب اداس رہا
وہ تمہارا ادا شناس رہا
زندگی بھر خودی کا پاس رہا
عشق کب محوِ التماس رہا
ہر فسانہ جو کہہ چکی دنیا
میرے غم کا ہی اقتباس رہا
دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا
میرے ہونٹوں پر تمہارا نام کیسے آ گیا
ان کی محفل میں ہمارا نام کیسے آ گیا
آج ذکرِ گردشِ آیام کیسے آ گیا
دل سی شے نے کیسے رسمِ آرزو کر لی قبول
طائرِ افلاک زیرِ دام کیسے آ گیا
درد کا درد سے درماں کرتے
یوں علاج غم جاناں کرتے
ہم اگر فکر گلستاں کرتے
روز دامن کو گریباں کرتے
گھر کی ویرانی سے فرصت نہ ملی
ورنہ ہم سیر بیاباں کرتے
مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا
رہِ محبت میں ہر قدم پر نشان ملتا ہے زندگی کا
اسی محبت میں ہم پہ گزرا اک ایسا عالم بھی تیرگی کا
بنا لیا آفتاب ہم نے ملا جو ذرہ بھی روشنی کا
یکایک اک ہُوک دل میں اٹھی پلٹ گیا رنگ زندگی کا
بخیر یادش مرے لبوں پر ابھی ابھی نام تھا کسی کا