Showing posts with label احساس مرادآبادی. Show all posts
Showing posts with label احساس مرادآبادی. Show all posts

Thursday, 20 January 2022

ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا

 ہاں مجھے گوارا ہے، عشق کا سفر تنہا

اس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہا

زیست ہے مگر سُونی، عشق ہے مگر تنہا

چشم سر بسر ویراں قلب سر بسر تنہا

وہ جمال کی تابش جیسے نور کی بارش

حسن یار کی یورش اور مِری نظر تنہا

Friday, 14 January 2022

اب میں پیام فصل بہاراں کو کیا کروں

 اب میں پیام فصل بہاراں کو کیا کروں

دامن کہاں سے لاؤں گریباں کو کیا کروں

تاثیر سوزش غم پنہاں کو کیا کروں

رنگ پریدۂ رخ جاناں کو کیا کروں

پیدا یہیں سے میرا نشیمن بھی ہو تو جائے

بے اعتبارئ غم زنداں کو کیا کروں

Friday, 14 May 2021

کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤ

 کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤ

اس جنسِ گراں کو سر بازار تو لاؤ

تمثیلِ جمالِ نگہِ یار تو لاؤ

ممکن ہو جوابِ لب و رخسار تو لاؤ

لو نام نہ یارو کہ بغاوت ہے بڑی شے

تم پہلے ذرا جرأتِ گفتار تو لاؤ

Thursday, 13 May 2021

بے سبب عشق کب اداس رہا

 بے سبب عشق کب اداس رہا

وہ تمہارا ادا شناس رہا

زندگی بھر خودی کا پاس رہا

عشق کب محوِ التماس رہا

ہر فسانہ جو کہہ چکی دنیا

میرے غم کا ہی اقتباس رہا

Tuesday, 11 May 2021

دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا

 دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا

میرے ہونٹوں پر تمہارا نام کیسے آ گیا

ان کی محفل میں ہمارا نام کیسے آ گیا

آج ذکرِ گردشِ آیام کیسے آ گیا

دل سی شے نے کیسے رسمِ آرزو کر لی قبول

طائرِ افلاک زیرِ دام کیسے آ گیا

Monday, 10 May 2021

درد کا درد سے درماں کرتے

 درد کا درد سے درماں کرتے

یوں علاج غم جاناں کرتے

ہم اگر فکر گلستاں کرتے

روز دامن کو گریباں کرتے

گھر کی ویرانی سے فرصت نہ ملی

ورنہ ہم سیر بیاباں کرتے

Monday, 14 December 2020

مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا

 مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا

رہِ محبت میں ہر قدم پر نشان ملتا ہے زندگی کا

اسی محبت میں ہم پہ گزرا اک ایسا عالم بھی تیرگی کا

بنا لیا آفتاب ہم نے ملا جو ذرہ بھی روشنی کا

یکایک اک ہُوک دل میں اٹھی پلٹ گیا رنگ زندگی کا

بخیر یادش مرے لبوں پر ابھی ابھی نام تھا کسی کا