مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا
رہِ محبت میں ہر قدم پر نشان ملتا ہے زندگی کا
اسی محبت میں ہم پہ گزرا اک ایسا عالم بھی تیرگی کا
بنا لیا آفتاب ہم نے ملا جو ذرہ بھی روشنی کا
یکایک اک ہُوک دل میں اٹھی پلٹ گیا رنگ زندگی کا
بخیر یادش مرے لبوں پر ابھی ابھی نام تھا کسی کا
جہاں سے دیکھو فسانۂ غم بنی ہوئی اضطرابِ پیہم
ہوں تیری نظریں بھی جس سے برہم کرینگے کیا ایسی زندگی کا
یہ عہد غم کی نہیں حکایت تھی اس سے پہلے بھی ایسی حالت
وہیں پہ ٹھہری نگاہِ الفت، جو رنگ دیکھا شکستگی کا
جو دل پہ پیہم ہے بارشِ غم، محبتیں ہو رہی ہیں محکم
اضافہ کرتا ہے زندگی میں جو دن گزرتا ہے زندگی کا
بیانِ غم کی لطافتیں ہیں، محبتوں کی نزاکتیں ہیں
وگرنہ احساس سچ تو یہ ہے سلیقہ کیا مجھ کو شاعری کا
احساس مرادآبادی
No comments:
Post a Comment