Monday, 14 December 2020

نظر میں ظلمت بدن میں ٹھنڈک جمال کتنا عجیب سا تھا

نظر میں ظلمت، بدن میں ٹھنڈک، جمال کتنا عجیب سا تھا

میں اس کی چاہت میں گھر سے نکلا تو حال کتنا عجیب سا تھا

نہ میں نے اس کو خطوط لکھے نہ اس نے میری پناہ چاہی

خود اپنی اپنی جگہ پہ ہم کو ملال کتنا عجیب سا تھا

نہ جانے کیسے نئی رتوں میں پرانی یادوں کی ناؤ ڈوبی

نظر کے دریا میں آنے والا ابال کتنا عجیب سا تھا

ہتھیلیوں پہ رکھے چراغوں کو خود بجھایا ہوا سے پہلے

اداس موسم میں بے بسی کا یہ سال کتنا عجیب سا تھا

وہ اپنی راتوں میں چاند دیکھے میں اپنی راتوں میں اس کو سوچوں

بدلتے موسم میں سوچ کا یہ وصال کتنا عجیب سا تھا

سفر اکیلے ہی کاٹ لو گے یہ میں نے پوچھا تو رو پڑا وہ

جواب کتنا عجیب سا تھا، سوال کتنا عجیب سا تھا


نجم الثاقب 

No comments:

Post a Comment