Showing posts with label ایم ڈی تاثیر. Show all posts
Showing posts with label ایم ڈی تاثیر. Show all posts

Tuesday, 5 April 2022

حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچے

 حسن کے رازِ نہاں، شرحِ بیاں تک پہنچے

آنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچے

دل نے آنکھوں سے کہی آنکھوں نے دل سی کہہ دی

بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے

عشق پہلے ہی قدم پر ہے یقیں سے واصل

انتہا عقل کی یہ ہے کہ گماں تک پہنچے

Tuesday, 6 December 2016

داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں

داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں
گل کھلائے ہوئے تمہارے ہیں
ربط ہے حسن و عشق میں باہم
ایک دریا کے دو کنارے ہیں
کوئی جدت نہیں حسینوں میں
سب نے نقشے ترے اتارے ہیں

رس بھرے ہونٹ پھول سے ہلکے

رس بھرے ہونٹ
پھول سے ہلکے
جیسے بلور کی صراحی میں
بادۂ آتشیں نفس چھلکے
جیسے نرگس کی گول آنکھوں سے
ایک شبنم کا ارغواں قطرہ

Tuesday, 9 February 2016

میری وفائیں یاد کرو گے

میری وفائیں یاد کرو گے
روؤ گے، فریاد کرو گے
ہم بھی ہنسیں گے تم پر اک دن
تم بھی کبھی فریاد کرو گے 
محفل کی محفل ہے غمگیں
کس کس کا دل شاد کرو گے

لذت درد نے ممنون مداوا نہ کیا

لذتِ درد نے ممنونِ مداوا نہ کِیا
وہ تو مائل تھے مگر ہم نے تقاضا نہ کِیا 
دل کو منظور تھی خوننابہ فشانی،۔ لیکن
میری آنکھوں نے تِرے راز کو رسوا نہ کِیا
یہ جبیں، خاکِ دیار سے رنگیں جو ہوئی
اس کو کعبے میں بھی آلودۂ سجدہ نہ کِیا 

ہوس کیا آرزو کیا مدعا کیا

ہوس کیا، آرزو کیا، مدعا کیا
فریبِ عشق کے سامان ہیں کیا کیا
کروں وحشت میں عرضِ مدعا کیا
مجھے کہنا تھا کیا کچھ، کہہ دیا کیا
پرانا چاہنے والا ہوں، مجھ سے
تکلف سازئ ناز و ادا کیا

جاؤ کہ اب وہ جوش تمنا نہیں رہا

جاؤ کہ اب وہ جوش تمنا نہیں رہا
آنکھیں رہیں پہ دیکھنے والا نہیں رہا
آبِ بقا بھی چشمِ خرد میں سراب ہے
میں تشنۂ فریبِ تمنا نہیں رہا
تم آج بھی وہی ہو جو کل تھے بجا درست
میں وہ نہیں رہا، بہت اچھا نہیں رہا

Monday, 10 August 2015

لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں

لطفِ وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں
خاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیں
ان کے بغیر تلخئ کام و دہن حرام
دردِ جگر ہے لذتِ درد، جگر نہیں
تم کیا گئے کہ سارا زمانہ چلا گیا
وہ رات دن نہیں، وہ شام و سحر نہیں

وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ

وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ
نہ طریقِ آشنائی نہ رسومِ جام و بادہ
تِری نیم کش نگاہیں، تِرا زیرِ لب تبسم
یونہی اک ادائے مستی یونہی اک فریبِ سادہ
وہ کچھ اس طرح سے آئے مجھے اس طرح سے دیکھا
مِری آرزو سے کم تر، مِری تاب سے زیادہ

پھر دھندلکا سا ہوا رات کے آثار گئے

پھر دھندلکا سا ہوا، رات کے آثار گئے
جام و مینا کو سنبھالے ہوئے میخوار گئے
شمعیں گل ہو گئیں، پروانے گئے، بزم اٹھی
میں ہی میں رہ گیا، سب ان کے طرفدار گئے
یہ عجب مے ہے، عجب نشہ، عجب محفل ہے
کہ جو مدہوش یہاں آئے تھے، ہُشیار گئے

Friday, 28 February 2014

حضورِ یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں​

حضورِ یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں​
کچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں​
مزاج ایک، نظر ایک، دل بھی ایک سہی​
معاملاتِ مَن و تُو نکل ہی آتے ہیں​
ہزار ہم سخنی ہو ہزار ہم نظری​
مقامِ جُنبشِ ابرو نکل ہی آتے ہیں​