حسن کے رازِ نہاں، شرحِ بیاں تک پہنچے
آنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچے
دل نے آنکھوں سے کہی آنکھوں نے دل سی کہہ دی
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
عشق پہلے ہی قدم پر ہے یقیں سے واصل
انتہا عقل کی یہ ہے کہ گماں تک پہنچے
حسن کے رازِ نہاں، شرحِ بیاں تک پہنچے
آنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچے
دل نے آنکھوں سے کہی آنکھوں نے دل سی کہہ دی
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
عشق پہلے ہی قدم پر ہے یقیں سے واصل
انتہا عقل کی یہ ہے کہ گماں تک پہنچے