Tuesday, 6 December 2016

رس بھرے ہونٹ پھول سے ہلکے

رس بھرے ہونٹ
پھول سے ہلکے
جیسے بلور کی صراحی میں
بادۂ آتشیں نفس چھلکے
جیسے نرگس کی گول آنکھوں سے
ایک شبنم کا ارغواں قطرہ
شفق صبح سے درخشندہ
دھیرے دھیرے سنبھل سنبھل ڈھلکے
رس بھرے ہونٹ یوں لرزتے ہیں
یوں لرزتے ہیں جس طرح کوئی
رات دن کا تھکا ہوا راہی
پاؤں چھلنی نگاہ متزلزل
وقت صحراۓ بیکراں کہ جہاں
سنگِ منزل نما نہ آج نہ کل
دفعتاً دور، دور، آنکھ سے دور
شفق شام کی سیاہی میں 
قلب کی آرزو نگاہی میں 
فرش سے عرش تک جھلک اٹھے
ایک دھوکا، سراب، منبعِ نور
رس بھرے ہونٹ دیکھ کر تاثیرؔ
رات دن کے تھکے ہوۓ راہی
یوں ترستے ہیں، یوں لرزتے ہیں

ایم ڈی تاثیر
محمد دین تاثیر

No comments:

Post a Comment