رس بھرے ہونٹ
پھول سے ہلکے
جیسے بلور کی صراحی میں
بادۂ آتشیں نفس چھلکے
جیسے نرگس کی گول آنکھوں سے
شفق صبح سے درخشندہ
دھیرے دھیرے سنبھل سنبھل ڈھلکے
رس بھرے ہونٹ یوں لرزتے ہیں
یوں لرزتے ہیں جس طرح کوئی
رات دن کا تھکا ہوا راہی
پاؤں چھلنی نگاہ متزلزل
وقت صحراۓ بیکراں کہ جہاں
سنگِ منزل نما نہ آج نہ کل
دفعتاً دور، دور، آنکھ سے دور
شفق شام کی سیاہی میں
قلب کی آرزو نگاہی میں
فرش سے عرش تک جھلک اٹھے
ایک دھوکا، سراب، منبعِ نور
رس بھرے ہونٹ دیکھ کر تاثیرؔ
رات دن کے تھکے ہوۓ راہی
یوں ترستے ہیں، یوں لرزتے ہیں
ایم ڈی تاثیر
محمد دین تاثیر
No comments:
Post a Comment