محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا
کچھ ایسی بات ہے، انکار بھی کرتے نہیں بنتا
خلوصِ ناز کی توہیں بھی دیکھی نہیں جاتی
شعورِ حسن کو بیدار بھی کرتے نہیں بنتا
ستم دیکھو کہ اس بے درد سے اپنی لڑائی ہے
بھنور سے جی بھی گھبراتا ہے، لیکن کیا کیا جائے
طوافِ موجِ کم رفتار بھی کرتے نہیں بنتا
اسی دل کو بھری دنیا کے جھگڑے جھیلنے ٹھہرے
یہی دل جس کو دنیادار بھی کرتے بھی نہیں بنتا
جلاتی ہے دلوں کو سردمہری بھی زمانے کی
سوالِ گرمئ بازار بھی کرتے نہیں بنتا
خزاںؔ ان کی توجہ ایسی ناممکن نہیں، لیکن
ذرا سی بات پر اصرار کرتے بھی نہیں بنتا
محبوب خزاں
No comments:
Post a Comment