ترکِ وطن
مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو
نشتروں کے دھوکے میں وار بھی ہوئے اکثر
منزلوں کی لالچ میں راستے گنوا ڈالے
رہبروں کی چاہت میں خوار بھی ہوئے اکثر
ہر فریبِ تازہ کو مسکرا کے دیکھا تھا
دل کو عہدِ رفتہ کے طور ابھی نہیں بھولے
ترکِ وطن
مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو
نشتروں کے دھوکے میں وار بھی ہوئے اکثر
منزلوں کی لالچ میں راستے گنوا ڈالے
رہبروں کی چاہت میں خوار بھی ہوئے اکثر
ہر فریبِ تازہ کو مسکرا کے دیکھا تھا
دل کو عہدِ رفتہ کے طور ابھی نہیں بھولے
رات بھر فرقت کے سائے دل کو دہلاتے رہے
ذہن میں کیا کیا خیال آتے رہے، جاتے رہے
سینکڑوں دلکش بہاریں تھیں ہماری منتظر
ہم تِری خواہش میں لیکن ٹھوکریں کھاتے رہے
عمر بھر دیکھا نہ اپنے چاک دامن کی طرف
بس تِری الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتے رہے
غرور و ناز و تکبر کے دن تو کب کے گئے
ظہیر اب وہ زمانے حسب نسب کے گئے
بہت غرور گلستاں میں تھا گلابوں کو
تمہیں جو دیکھا تو ہوش و حواس سب کے گئے
مچا ہے شور خزاں کا ہے رخ اسی جانب
اگر یہ سچ ہے تو سمجھو کہ ہم بھی اب کے گئے
دکھ
دکھ اک ایسا گیت
کہ جس کو اپنے لیے
خود ہم گاتے ہیں
دکھ اک ایسی بپتا
جس میں اور کوئی کردار نہیں ہے
ملول خاطر و آزردہ دل، کبیدہ بدن
شبِ وصال میں روتے ہیں غم گزیدہ بدن
علاجِ زخمِ تمنا کو چاہیۓ مرہم
قلم کی نوک سے سلتے نہیں دریدہ بدن
اٹھائیں شاہ پہ کیسے ہم انگلیاں لوگو
جلوسِ شاہ میں عریاں ہیں برگزیدہ بدن
قلب ہو جائے جو پتھر تو بشر پتھر کا
پھر تو ہر آدمی آتا ہے نظر پتھر کا
سنگباری ہوئی اتنی کہ شرر ہو گیا خون
کچھ تو ہونا ہی تھا آخر کو اثر پتھر کا
عشقِ بینا کی عنایت ہے یہ ترتیبِ صفات
آئینہ چہرہ، بدن پھول، جگر پتھر کا
آئینہ گر کے دکھ
پتھرہی رہو، شیشہ نہ بنو
شیشوں کی ابھی رُت آئی نہیں
اس شہرمیں خالی چہروں پر
آنکھیں تو ابھر آئی ہیں مگر
آنکھوں میں ابھی بینائی نہیں
رنجشوں میں، بحث میں، تکرار میں ضائع نہ کر
زندگی کو اس طرح بے کار میں ضائع نہ کر
جاں شکستہ ہے تو کیا یہ دل شکستہ تو نہیں
آخری حملے کو پہلے وار میں ضائع نہ کر
ایک خلعت کے لیے مت بیچ اس میراث کو
دولت شعر و سخن دربار میں ضائع نہ کر
گوشوارہ
کیا حال سنائیں دنیا کا، کیا بات بتائیں لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں، لاکھوں ہی ادائیں لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں، دنیا کو سنانے کے قابل
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں، بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں، اک بار گئے تو آتے نہیں
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں، پرچھائیں بھی اُن کی پاتے نہیں
دل کو ٹٹولئے، کوئی ارمان ڈھونڈئیے
پھر سے کسی نظرمیں پرستان ڈھونڈئیے
یونہی گزر نہ جائے یہ موسم شباب کا
آرائشِ حیات کا سامان ڈھونڈئیے
کب تک گلاب ہاتھ میں لیکر پھریں گے آپ
موسم بہت شدید ہے گلدان ڈھونڈئیے
البم سے کئی عکس پرانے نکل آئے
لمحات کے پیکر میں زمانے نکل آئے
بھولے ہوئے کچھ نامے، بھلائے ہوئے کچھ نام
کاغذ کے پلندوں سے خزانے نکل آئے
تھے گوشہ نشیں آنکھ میں آنسو مِرے کب سے
عید آئی تو تہوار منانے نکل آئے
تاریک دیاروں میں اجالے کا پتہ ہیں
ہم لوگ محبت ہیں، مروت کی ادا ہیں
ہم دستِ محبت میں علمدارِ مساوات
ہم دور سے آتی ہوئی مانوس صدا ہیں
ہم نطقِ محبت میں ہیں الفاظِ پذیرائی
ہم چشمِ اخوت میں عنایت کی نگاہیں
پیکرِ خاک میں تاثیرِِ شرر دیتا ہے
آتشِِ درد میں جلنے کا ثمر دیتا ہے
اک ذرا گردشِِ ایام میں کرتا ہے اسیر
دسترس میں نئے پھر شام و سحر دیتا ہے
دل پہ کرتا ہے یہ تصویر جمالِ ہستی
پھر مٹا کر اسے اک رنگِ دگر دیتا ہے
ورثۂ درد ہے تنہائی چھپا لی جائے
اپنے حصے کی یہ جاگیر سنبھالی جائے
کون دیکھے گا تبسم کی نمائش سے پرے
ٹوٹی دیوار پہ تصویر لگا لی جائے
اختلافات نہ بن جائیں تماشہ اے دوست
بیچ میں اب کوئی دیوار اٹھا لی جائے
ہوائے مہر و محبت سوادِ جاں سے چلے
فصیلِ درد گرائے جہاں جہاں سے چلے
ہوا ہے شہر میں دستورِ مصلحت کا نفاذ
کوئی تو رسمِ جنوں بزمِ عاشقاں سے چلے
وصال و ہجر کے موسم گزر چکے ہیں سبھی
سو آج ہم بھی تِری بزمِ امتحاں سے چلے
مت سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
ہم لوگ وفاؤں کے تضادات میں گم ہیں
رستوں میں نہیں سات سمندر کی یہ دوری
یہ سات سمندر تو مری ذات میں گم ہیں
بنا کے پھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم
اب آ گئے ہو تو پھر چھوڑ کر نہ جاؤ تم
میں ڈرتے ڈرتے سناتا ہوں اپنے اندیشے
میں کھل کے یوں نہیں کہتا کہ ڈر نہ جاؤ تم
کہاں کہاں مجھے ڈھونڈو گے پرزہ پرزہ ہوں
مجھے سمیٹنے والے، بکھر نہ جاؤ تم
دل تو پتھر ہوئے، غم پھر بھی کسک دیتے ہیں
آگ اتنی ہو تو پتھر بھی چمک دیتے ہیں
خاک گرتی ہے جو سر پر غمِ دنیا کی کبھی
نام لے کر تِرا ہولے سے جھٹک دیتے ہیں
زندگی جب بھی نظر آتی ہے عریاں اپنی
ہم تِرے درد کی پوشاک سے ڈھک دیتے ہیں