Showing posts with label ظہیر احمد. Show all posts
Showing posts with label ظہیر احمد. Show all posts

Wednesday, 14 August 2024

ترک وطن مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو

 ترکِ وطن


مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو

نشتروں کے دھوکے میں وار بھی ہوئے اکثر

منزلوں کی لالچ میں راستے گنوا ڈالے

رہبروں کی چاہت میں خوار بھی ہوئے اکثر


ہر فریبِ تازہ کو مسکرا کے دیکھا تھا

دل کو عہدِ رفتہ کے طور ابھی نہیں بھولے

Monday, 25 April 2022

رات بھر فرقت کے سائے دل کو دہلاتے رہے

 رات بھر فرقت کے سائے دل کو دہلاتے رہے

ذہن میں کیا کیا خیال آتے رہے، جاتے رہے

سینکڑوں دلکش بہاریں تھیں ہماری منتظر

ہم تِری خواہش میں لیکن ٹھوکریں کھاتے رہے

عمر بھر دیکھا نہ اپنے چاک دامن کی طرف

بس تِری الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتے رہے

Thursday, 20 January 2022

غرور و ناز و تکبر کے دن تو کب کے گئے

 غرور و ناز و تکبر کے دن تو کب کے گئے

ظہیر اب وہ زمانے حسب نسب کے گئے

بہت غرور گلستاں میں تھا گلابوں کو

تمہیں جو دیکھا تو ہوش و حواس سب کے گئے

مچا ہے شور خزاں کا ہے رخ اسی جانب

اگر یہ سچ ہے تو سمجھو کہ ہم بھی اب کے گئے

Friday, 7 January 2022

دکھ اک ایسا گیت کہ جس کو خود ہم گاتے ہیں

 دکھ


دکھ اک ایسا گیت

کہ جس کو اپنے لیے

خود ہم گاتے ہیں

دکھ اک ایسی بپتا

جس میں اور کوئی کردار نہیں ہے

Friday, 8 October 2021

ملول خاطر و آزردہ دل کبیدہ بدن

 ملول خاطر و آزردہ دل، کبیدہ بدن

شبِ وصال میں روتے ہیں غم گزیدہ بدن

علاجِ زخمِ تمنا کو چاہیۓ مرہم

قلم کی نوک سے سلتے نہیں دریدہ بدن

اٹھائیں شاہ پہ کیسے ہم انگلیاں لوگو

جلوسِ شاہ میں عریاں ہیں برگزیدہ بدن

Wednesday, 21 July 2021

قلب ہو جائے جو پتھر تو بشر پتھر کا

 قلب ہو جائے جو پتھر تو بشر پتھر کا

پھر تو ہر آدمی آتا ہے نظر پتھر کا

سنگباری ہوئی اتنی کہ شرر ہو گیا خون

کچھ تو ہونا ہی تھا آخر کو اثر پتھر کا

عشقِ بینا کی عنایت ہے یہ ترتیبِ صفات

آئینہ چہرہ، بدن پھول، جگر پتھر کا

Thursday, 17 December 2020

پتھرہی رہو شیشہ نہ بنو آواز نہ دو

 آئینہ گر کے دکھ


پتھرہی رہو، شیشہ نہ بنو

شیشوں کی ابھی رُت آئی نہیں

اس شہرمیں خالی چہروں پر

آنکھیں تو ابھر آئی ہیں مگر

آنکھوں میں ابھی بینائی نہیں

Sunday, 13 December 2020

رنجشوں میں بحث میں تکرار میں ضائع نہ کر

 رنجشوں میں، بحث میں، تکرار میں ضائع نہ کر

زندگی کو اس طرح بے کار میں ضائع نہ کر

جاں شکستہ ہے تو کیا یہ دل شکستہ تو نہیں

آخری حملے کو پہلے وار میں ضائع نہ کر

ایک خلعت کے لیے مت بیچ اس میراث کو

دولت شعر و سخن دربار میں ضائع نہ کر

Thursday, 15 October 2020

کیا حال سنائیں دنیا کا کیا بات بتائیں لوگوں کی

گوشوارہ


کیا حال سنائیں دنیا کا، کیا بات بتائیں لوگوں کی

دنیا کے ہزاروں موسم ہیں، لاکھوں ہی ادائیں لوگوں کی

کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں، دنیا کو سنانے کے قابل

کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں، بس دل میں چھپانے کے قابل

کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں، اک بار گئے تو آتے نہیں

ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں، پرچھائیں بھی اُن کی پاتے نہیں

Sunday, 4 October 2020

دل کو ٹٹولئے کوئی ارمان ڈھونڈئیے

 دل کو ٹٹولئے، کوئی ارمان ڈھونڈئیے

پھر سے کسی نظرمیں پرستان ڈھونڈئیے

یونہی گزر نہ جائے یہ موسم شباب کا

آرائشِ حیات کا سامان ڈھونڈئیے

کب تک گلاب ہاتھ میں لیکر پھریں گے آپ

موسم بہت شدید ہے گلدان ڈھونڈئیے

Friday, 2 October 2020

البم سے کئی عکس پرانے نکل آئے

البم سے کئی عکس پرانے نکل آئے

لمحات کے پیکر میں زمانے نکل آئے

بھولے ہوئے کچھ نامے، بھلائے ہوئے کچھ نام

کاغذ کے پلندوں سے خزانے نکل آئے

تھے گوشہ نشیں آنکھ میں آنسو مِرے کب سے

عید آئی تو تہوار منانے نکل آئے

Thursday, 1 October 2020

تاریک دیاروں میں اجالے کا پتہ ہیں

 تاریک دیاروں میں اجالے کا پتہ ہیں

ہم لوگ محبت ہیں، مروت کی ادا ہیں

ہم دستِ محبت میں علمدارِ مساوات

ہم دور سے آتی ہوئی مانوس صدا ہیں

ہم نطقِ محبت میں ہیں الفاظِ پذیرائی

ہم چشمِ اخوت میں عنایت کی نگاہیں

Wednesday, 30 September 2020

پیکر خاک میں تاثیر شرر دیتا ہے

 پیکرِ خاک میں تاثیرِِ شرر دیتا ہے

آتشِِ درد میں جلنے کا ثمر دیتا ہے

اک ذرا گردشِِ ایام میں کرتا ہے اسیر

دسترس میں نئے پھر شام و سحر دیتا ہے

دل پہ کرتا ہے یہ تصویر جمالِ ہستی

پھر مٹا کر اسے اک رنگِ دگر دیتا ہے

Monday, 28 September 2020

ورثۂ درد ہے تنہائی چھپا لی جائے

 ورثۂ درد ہے تنہائی چھپا لی جائے

اپنے حصے کی یہ جاگیر سنبھالی جائے

کون دیکھے گا تبسم کی نمائش سے پرے

ٹوٹی دیوار پہ تصویر لگا لی جائے

اختلافات نہ بن جائیں تماشہ اے دوست

بیچ میں اب کوئی دیوار اٹھا لی جائے

Sunday, 27 September 2020

ہوائے مہر و محبت سواد جاں سے چلے

ہوائے مہر و محبت سوادِ جاں سے چلے

فصیلِ درد گرائے جہاں جہاں سے چلے

ہوا ہے شہر میں دستورِ مصلحت کا نفاذ

کوئی تو رسمِ جنوں بزمِ عاشقاں سے چلے

وصال و ہجر کے موسم گزر چکے ہیں سبھی

سو آج ہم بھی تِری بزمِ امتحاں سے چلے

Friday, 25 September 2020

مت سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں

 مت سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں

ہم لوگ وفاؤں کے تضادات میں گم ہیں

رستوں میں نہیں سات سمندر کی یہ دوری

یہ سات سمندر تو مری ذات میں گم ہیں

بنا کے پھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم

 بنا کے پھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم

اب آ گئے ہو تو پھر چھوڑ کر نہ جاؤ تم

میں ڈرتے ڈرتے سناتا ہوں اپنے اندیشے

میں کھل کے یوں نہیں کہتا کہ ڈر نہ جاؤ تم

کہاں کہاں مجھے ڈھونڈو گے پرزہ پرزہ ہوں

مجھے سمیٹنے والے، بکھر نہ جاؤ تم

Thursday, 24 September 2020

دل تو پتھر ہوئے غم پھر بھی کسک دیتے ہیں

 دل تو پتھر ہوئے، غم پھر بھی کسک دیتے ہیں

آگ اتنی ہو تو پتھر بھی چمک دیتے ہیں

خاک گرتی ہے جو سر پر غمِ دنیا کی کبھی

نام لے کر تِرا ہولے سے جھٹک دیتے ہیں

زندگی جب بھی نظر آتی ہے عریاں اپنی

ہم تِرے درد کی پوشاک سے ڈھک دیتے ہیں

Monday, 31 October 2016

آئینہ گر کے دکھ پتھرہی رہو شیشہ نہ بنو

آئینہ گر کے دُکھ

پتھر ہی رہو، شیشہ نہ بنو
شیشوں کی ابھی رُت آئی نہیں
اس شہرمیں خالی چہروں پر
آنکھیں تو ابھرآئی ہیں مگر
آنکھوں میں ابھی بینائی نہیں
خاموش رہو، آواز نہ دو