Wednesday, 21 July 2021

قلب ہو جائے جو پتھر تو بشر پتھر کا

 قلب ہو جائے جو پتھر تو بشر پتھر کا

پھر تو ہر آدمی آتا ہے نظر پتھر کا

سنگباری ہوئی اتنی کہ شرر ہو گیا خون

کچھ تو ہونا ہی تھا آخر کو اثر پتھر کا

عشقِ بینا کی عنایت ہے یہ ترتیبِ صفات

آئینہ چہرہ، بدن پھول، جگر پتھر کا

کارِ شیشہ گری نازک سا ہے بالائے سطح

زیرِ شیشہ ہے وہی کام مگر پتھر کا

یا تو رستے کی رکاوٹ یا کسی سر کا نصیب

یعنی ٹھوکر سے سروں تک ہے سفر پتھر کا

پہلے گھڑتا ہے خدا، پھر وہی تیشے بھی سبھی

آزرِ عصر کے ہاتھوں میں ہنر پتھر کا

دشمنوں کو ہے کھلی دعوتِ شب خون ظہیر

کانچ کی اپنی فصیلیں ہیں، نگر پتھر کا


ظہیر احمد

No comments:

Post a Comment