Wednesday, 21 July 2021

میں نازوں سے رہنے والی خود نازوں سے لڑتی ہوں

 میں نازوں سے رہنے والی خود نازوں سے لڑتی ہوں

انسانوں کے بیچ میں ان کے کرداروں سے لڑتی ہوں

دنیا بھر کی آوازوں سے کیا مطلب مجھ کو میں تو

اپنے اندر اٹھنے والی آوازوں سے لڑتی ہوں

پیاس کا اپنی جشن مناتی خاک اڑاتی ہوں پہلے

تب جا کر پھر شدت سے میں صحراؤں سے لڑتی ہوں

جن پر تُو نے رنگ بھرے تھے پیار سے اپنے ہر جانب

ہجر میں تیرے اس کمرے کی دیواروں سے لڑتی ہوں

کوئی اس کو وحشت سمجھے یا میرا دیوانہ پن

میں خوابوں کو پنکھ لگا کر پروازوں سے لڑتی ہوں

تم سے لڑنے کی عادت نے اب یہ میرا حال کیا

تنہائی سے لڑتے لڑتے دیواروں سے لڑتی ہوں


جیوتی آزاد

No comments:

Post a Comment