میں نازوں سے رہنے والی خود نازوں سے لڑتی ہوں
انسانوں کے بیچ میں ان کے کرداروں سے لڑتی ہوں
دنیا بھر کی آوازوں سے کیا مطلب مجھ کو میں تو
اپنے اندر اٹھنے والی آوازوں سے لڑتی ہوں
پیاس کا اپنی جشن مناتی خاک اڑاتی ہوں پہلے
تب جا کر پھر شدت سے میں صحراؤں سے لڑتی ہوں
جن پر تُو نے رنگ بھرے تھے پیار سے اپنے ہر جانب
ہجر میں تیرے اس کمرے کی دیواروں سے لڑتی ہوں
کوئی اس کو وحشت سمجھے یا میرا دیوانہ پن
میں خوابوں کو پنکھ لگا کر پروازوں سے لڑتی ہوں
تم سے لڑنے کی عادت نے اب یہ میرا حال کیا
تنہائی سے لڑتے لڑتے دیواروں سے لڑتی ہوں
جیوتی آزاد
No comments:
Post a Comment