Showing posts with label احمد حجازی. Show all posts
Showing posts with label احمد حجازی. Show all posts

Monday, 11 March 2024

جو پیاس پھیلی سر جسم و جاں سکون کی ہے

 جو پیاس پھیلی سرِ جسم و جاں سکون کی ہے

ہوائے شہر وگرنہ کہاں سکون کی ہے

میں اک بھنور میں پھنسا ہوں تو کیا ہوا یارو

بس ایک موج سی مجھ میں نہاں سکون کی ہے

بہار لاکھ لبھاتی رہے تِرے دل کو

مجھے خبر ہے کہ اب یہ خزاں سکون کی ہے

Thursday, 25 January 2024

آج تیری خبر جو آئے گی

 آج تیری خبر جو آئے گی

دامنِ دل مِرا جلائے گی

پاس آئے گی اور منائے گی

چائے ہاتھوں سے وہ پِلائے گی

دُشمنوں کا ہے یہ کرم مجھ پر

دوستی اب مجھے ستائے گی

Wednesday, 20 December 2023

زہر کے جام مجھے اس نے پلائے ہائے

 زہر کے جام مجھے اس نے پِلائے، ہائے

پھر بھی کہتا ہوں کہیں رُوٹھ نہ جائے ہائے

مجھ کو بدنام محبت کی کہانی نے کِیا 

مجھ پہ حالات نے وہ ظُلم ہیں ڈھائے ہائے

اس کی ہر ایک ادا لُوٹ لیا کرتی ہے

اس نے غم اتنے مجھے دے دئیے ہائے ہائے

Tuesday, 19 December 2023

بھنور میں ناؤ ہے بارش کے امتحان کے بعد

 بھنور میں ناؤ ہے بارش کے اِمتحان کے بعد

ہے آسرا کوئی کمزور بادبان کے بعد؟

قسم اُٹھائی ہے خالق نے جسؐ کے چہرے کی

وہ جانتا ہے کہ کیا ہے اس آسمان کے بعد

ملے گی کتنی اذیّت ہمیں جُدائی میں

چلیں گے درد کے نغمے خُوشی کی تان کے بعد

Sunday, 24 October 2021

مصیبت کی گھڑی ہے اور میں ہوں

مصیبت کی گھڑی ہے اور میں ہوں

عذابِ دوستی ہے اور میں ہوں

مجھے تڑپا رہی ہے وحشتِ جاں

کسی کی دل لگی ہے اور میں ہوں

غضب کی دھوپ میں صحرا نشینی

لبوں پر تشنگی ہے اور میں ہوں