جو پیاس پھیلی سرِ جسم و جاں سکون کی ہے
ہوائے شہر وگرنہ کہاں سکون کی ہے
میں اک بھنور میں پھنسا ہوں تو کیا ہوا یارو
بس ایک موج سی مجھ میں نہاں سکون کی ہے
بہار لاکھ لبھاتی رہے تِرے دل کو
مجھے خبر ہے کہ اب یہ خزاں سکون کی ہے
جو پیاس پھیلی سرِ جسم و جاں سکون کی ہے
ہوائے شہر وگرنہ کہاں سکون کی ہے
میں اک بھنور میں پھنسا ہوں تو کیا ہوا یارو
بس ایک موج سی مجھ میں نہاں سکون کی ہے
بہار لاکھ لبھاتی رہے تِرے دل کو
مجھے خبر ہے کہ اب یہ خزاں سکون کی ہے
آج تیری خبر جو آئے گی
دامنِ دل مِرا جلائے گی
پاس آئے گی اور منائے گی
چائے ہاتھوں سے وہ پِلائے گی
دُشمنوں کا ہے یہ کرم مجھ پر
دوستی اب مجھے ستائے گی
زہر کے جام مجھے اس نے پِلائے، ہائے
پھر بھی کہتا ہوں کہیں رُوٹھ نہ جائے ہائے
مجھ کو بدنام محبت کی کہانی نے کِیا
مجھ پہ حالات نے وہ ظُلم ہیں ڈھائے ہائے
اس کی ہر ایک ادا لُوٹ لیا کرتی ہے
اس نے غم اتنے مجھے دے دئیے ہائے ہائے
بھنور میں ناؤ ہے بارش کے اِمتحان کے بعد
ہے آسرا کوئی کمزور بادبان کے بعد؟
قسم اُٹھائی ہے خالق نے جسؐ کے چہرے کی
وہ جانتا ہے کہ کیا ہے اس آسمان کے بعد
ملے گی کتنی اذیّت ہمیں جُدائی میں
چلیں گے درد کے نغمے خُوشی کی تان کے بعد
مصیبت کی گھڑی ہے اور میں ہوں
عذابِ دوستی ہے اور میں ہوں
مجھے تڑپا رہی ہے وحشتِ جاں
کسی کی دل لگی ہے اور میں ہوں
غضب کی دھوپ میں صحرا نشینی
لبوں پر تشنگی ہے اور میں ہوں