Showing posts with label قاسم یعقوب. Show all posts
Showing posts with label قاسم یعقوب. Show all posts

Monday, 1 April 2024

نئے موسم کی عزاداری

 نئے موسم کی عزاداری


آنکھ سے اشکوں کو اپنے غم میں بہنا چاہیے

ایک دن سب سے الگ ہو کر بھی رہنا چاہیے

ضبط سے آزاد کر کے زیر و بم آواز کا

سامنے سب کے جو دل میں آئے کہنا چاہیے

ریت کے ٹیلے چلیں لہر سمندر پر کبھی

سطحِ صحرا پر کبھی دریا کو بہنا چاہیے

Saturday, 9 March 2024

تجھے چھو کر بھی مری روح میں شدت نہیں ہے

 تجھے چُھو کر بھی مِری روح میں شدت نہیں ہے

دل لگی سی ہے یہ دراصل محبت نہیں ہے

اپنے اندر ہی گُھٹا رہنے لگا ہوں اب تو

تیرے غم میں ابھی رونے کی نزاکت نہیں ہے

میرے جذبوں میں مِری روح کی پاکیزگی ہے

جو بھی لکھتا ہوں مجھے اس کی ملامت نہیں ہے

Friday, 22 December 2023

کچھ آنسو رو لینے کے بعد نذر خواب ہو گیا

 کچھ آنسو رو لینے کے بعد نذرِ خواب ہو گیا

میں تم کو یاد کرتے کرتے گہری نیند سو گیا

رگیں لکیریں ہو گئیں، مسام نُقطے بن گئے

بدن تمہاری یاد میں حروفِ نظم ہو گیا

میں بُھول آیا کھول کر کتابِ عُمر پڑھتے وقت

سحابِ غم جو گُزرا کل ورق ورق بھگو گیا

Monday, 30 August 2021

میں مر کے پھر زندہ ہونا چاہتا ہوں

 موت کے لیے ایک نظم


میں اب مرنا چاہتا ہوں

مرتے وقت

اور مرے ہوئے

میں ان قدروں کی پامالی کا تجربہ اُدھار لوں گا

زندگی جن کے لیے مجھے شرمسار کرتی رہی

موت روزانہ میرے سامنے

Saturday, 28 August 2021

شکستہ گھر میں کوئی چیز بھی نہیں پوری

شِکستہ گھر میں کوئی چیز بھی نہیں پوری

کہیں ہوا تو کہیں روشنی نہیں پوری

میں تجھ کو دیکھ تو سکتا ہوں چُھو نہیں سکتا

تُو ہے، مگر تِری موجودگی نہیں پوری

انا سنبھالتے دل کھو دیا ہے میں نے وہیں

تمہارے سامنے سے واپسی نہیں پوری