نئے موسم کی عزاداری
آنکھ سے اشکوں کو اپنے غم میں بہنا چاہیے
ایک دن سب سے الگ ہو کر بھی رہنا چاہیے
ضبط سے آزاد کر کے زیر و بم آواز کا
سامنے سب کے جو دل میں آئے کہنا چاہیے
ریت کے ٹیلے چلیں لہر سمندر پر کبھی
سطحِ صحرا پر کبھی دریا کو بہنا چاہیے
نئے موسم کی عزاداری
آنکھ سے اشکوں کو اپنے غم میں بہنا چاہیے
ایک دن سب سے الگ ہو کر بھی رہنا چاہیے
ضبط سے آزاد کر کے زیر و بم آواز کا
سامنے سب کے جو دل میں آئے کہنا چاہیے
ریت کے ٹیلے چلیں لہر سمندر پر کبھی
سطحِ صحرا پر کبھی دریا کو بہنا چاہیے
تجھے چُھو کر بھی مِری روح میں شدت نہیں ہے
دل لگی سی ہے یہ دراصل محبت نہیں ہے
اپنے اندر ہی گُھٹا رہنے لگا ہوں اب تو
تیرے غم میں ابھی رونے کی نزاکت نہیں ہے
میرے جذبوں میں مِری روح کی پاکیزگی ہے
جو بھی لکھتا ہوں مجھے اس کی ملامت نہیں ہے
کچھ آنسو رو لینے کے بعد نذرِ خواب ہو گیا
میں تم کو یاد کرتے کرتے گہری نیند سو گیا
رگیں لکیریں ہو گئیں، مسام نُقطے بن گئے
بدن تمہاری یاد میں حروفِ نظم ہو گیا
میں بُھول آیا کھول کر کتابِ عُمر پڑھتے وقت
سحابِ غم جو گُزرا کل ورق ورق بھگو گیا
موت کے لیے ایک نظم
میں اب مرنا چاہتا ہوں
مرتے وقت
اور مرے ہوئے
میں ان قدروں کی پامالی کا تجربہ اُدھار لوں گا
زندگی جن کے لیے مجھے شرمسار کرتی رہی
موت روزانہ میرے سامنے
شِکستہ گھر میں کوئی چیز بھی نہیں پوری
کہیں ہوا تو کہیں روشنی نہیں پوری
میں تجھ کو دیکھ تو سکتا ہوں چُھو نہیں سکتا
تُو ہے، مگر تِری موجودگی نہیں پوری
انا سنبھالتے دل کھو دیا ہے میں نے وہیں
تمہارے سامنے سے واپسی نہیں پوری