Showing posts with label ز خ ش. Show all posts
Showing posts with label ز خ ش. Show all posts

Wednesday, 8 November 2023

رنگ فطرت ہے وجہ حیرانی

 لذتِ عرفاں


رنگِ فطرت ہے وجہِ حیرانی 

عقل ہے اور حیائے نادانی 

رازداں مُدعا کو کہتے ہیں 

حُسن اُلفت کا داغِ پیشانی 

حُسنِ باقی نے دل کو کھینچ لیا 

رُخصت اے حُسنِ ہستئ فانی 

Sunday, 5 November 2023

شاہد ارض کرے کیوں یہ دعائے مزدور

 شاہد ارض کرے کیوں یہ دعائے مزدور 

بہرِ زینت ہے وہ محتاج بقائے مزدور

دیکھ کر حسن مکاں کی صفت عقل مکیں 

آہ! نکلی نہ کسی لب سے ثنائے مزدور

کارخانے میں جو بارود کا بم آ کے پھٹا 

جل گیا پیکر بے جرم و خطائے مزدور 

Saturday, 21 October 2023

عورتوں کے حق میں ہر مذہب کا ہر ملت کا فرد

 طنزیہ شاعری


عورتوں کے حق میں ہر مذہب کا ہر ملّت کا فرد

جانور تھا، دیوتا، عفریت تھا، شیطان تھا

باپ ہو، بھائی ہو، شوہر ہو کہ ہو فرزند وہ

مرد کُل اشکال میں فرعونِ بے سامان تھا

مرد کی نا آشنا نظروں میں عورت کا وجود

اک مُورت، ایک کھلونا، ایک تنِ بے جان تھا

Friday, 20 October 2023

بحر غم میں ہے سخت طغیانی

 تحفۂ درویش


بحرِ غم میں ہے سخت طغیانی 

سر سے اوپر گزر گیا پانی 

کب تک اے نزہتِ برشتہ جگر 

شور یا رب سے عرشِ جنبانی 

رونے دھونے سے جان کھونے سے 

کہیں بنتے ہیں کام دیوانی 

Thursday, 19 October 2023

دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں

 پیام


دلِ فسردہ کو اب طاقتِ قرار نہیں 

نگاہِ شوق کو اب تابِ انتظار نہیں 

نہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیں 

خدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار؛ نہیں 

ہمیشہ وعدے کیے اب کے مِل ہی جا آ کر 

حیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیں 

Wednesday, 18 October 2023

خندہ زن ہیں اہل دل مثل گل گلزار آج

 سلطانیہ بورڈنگ ہاؤس علیگڑھ کی رسمِ افتتاح یکم مارچ 1914 میں پڑھی گئی


خندہ زن ہیں اہل دل مثل گل گلزار آج

نغمہ زن جوں عندلیب شکرین منقار آج

عجب قُرب شاہ سے بے شادی کیے نوشاہ ہیں

کیفِ جامِ فرح سے بے مئے پیے سرشار آج

دولتِ فکر و مسرت سے ہیں مالا مال سب

مٹ گیا فرقِ قبیحِ مُفلس و زردار آج

Tuesday, 17 October 2023

بہن یاد رکھ دست حسرت ملے گی

 طنزیہ کلام


بہن یاد رکھ دستِ حسرت ملے گی

سیانوں کے کہنے پہ گر تُو چلے گی

جہنم میں جھونک اے بہن! یہ فتیلے

انہیں کی طرح ورنہ تُو بھی جلے گی

یہ تعویذ کیا پار بیڑا کریں گے

بھلا ناؤ کاغذ کی کیونکر چلے گی