لذتِ عرفاں
رنگِ فطرت ہے وجہِ حیرانی
عقل ہے اور حیائے نادانی
رازداں مُدعا کو کہتے ہیں
حُسن اُلفت کا داغِ پیشانی
حُسنِ باقی نے دل کو کھینچ لیا
رُخصت اے حُسنِ ہستئ فانی
لذتِ عرفاں
رنگِ فطرت ہے وجہِ حیرانی
عقل ہے اور حیائے نادانی
رازداں مُدعا کو کہتے ہیں
حُسن اُلفت کا داغِ پیشانی
حُسنِ باقی نے دل کو کھینچ لیا
رُخصت اے حُسنِ ہستئ فانی
شاہد ارض کرے کیوں یہ دعائے مزدور
بہرِ زینت ہے وہ محتاج بقائے مزدور
دیکھ کر حسن مکاں کی صفت عقل مکیں
آہ! نکلی نہ کسی لب سے ثنائے مزدور
کارخانے میں جو بارود کا بم آ کے پھٹا
جل گیا پیکر بے جرم و خطائے مزدور
طنزیہ شاعری
عورتوں کے حق میں ہر مذہب کا ہر ملّت کا فرد
جانور تھا، دیوتا، عفریت تھا، شیطان تھا
باپ ہو، بھائی ہو، شوہر ہو کہ ہو فرزند وہ
مرد کُل اشکال میں فرعونِ بے سامان تھا
مرد کی نا آشنا نظروں میں عورت کا وجود
اک مُورت، ایک کھلونا، ایک تنِ بے جان تھا
تحفۂ درویش
بحرِ غم میں ہے سخت طغیانی
سر سے اوپر گزر گیا پانی
کب تک اے نزہتِ برشتہ جگر
شور یا رب سے عرشِ جنبانی
رونے دھونے سے جان کھونے سے
کہیں بنتے ہیں کام دیوانی
پیام
دلِ فسردہ کو اب طاقتِ قرار نہیں
نگاہِ شوق کو اب تابِ انتظار نہیں
نہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیں
خدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار؛ نہیں
ہمیشہ وعدے کیے اب کے مِل ہی جا آ کر
حیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیں
سلطانیہ بورڈنگ ہاؤس علیگڑھ کی رسمِ افتتاح یکم مارچ 1914 میں پڑھی گئی
خندہ زن ہیں اہل دل مثل گل گلزار آج
نغمہ زن جوں عندلیب شکرین منقار آج
عجب قُرب شاہ سے بے شادی کیے نوشاہ ہیں
کیفِ جامِ فرح سے بے مئے پیے سرشار آج
دولتِ فکر و مسرت سے ہیں مالا مال سب
مٹ گیا فرقِ قبیحِ مُفلس و زردار آج
طنزیہ کلام
بہن یاد رکھ دستِ حسرت ملے گی
سیانوں کے کہنے پہ گر تُو چلے گی
جہنم میں جھونک اے بہن! یہ فتیلے
انہیں کی طرح ورنہ تُو بھی جلے گی
یہ تعویذ کیا پار بیڑا کریں گے
بھلا ناؤ کاغذ کی کیونکر چلے گی