پھر بے خودی نے اس کو پکارا ہے آج کل
بچھڑا ہوا وہ شخص ہمارا ہے آج کل
دل میں تِری طلب نے اٹھائی ہیں شورشیں
یادوں کا تیری ہم کو سہارا ہے آج کل
سرگوشیوں میں ہونے لگی ہے کسی سے بات
تنہائیوں کا ساتھ بھی پیارا ہے آج کل
پھر بے خودی نے اس کو پکارا ہے آج کل
بچھڑا ہوا وہ شخص ہمارا ہے آج کل
دل میں تِری طلب نے اٹھائی ہیں شورشیں
یادوں کا تیری ہم کو سہارا ہے آج کل
سرگوشیوں میں ہونے لگی ہے کسی سے بات
تنہائیوں کا ساتھ بھی پیارا ہے آج کل
زندگی روز نئے غم میں کما لاتا ہوں
حادثوں سے تجھے ہر روز بچا لاتا ہوں
آپ بیٹھے رہیں ساحل کو یونہی تھامے ہوئے
میں بھنور سارے سمندر کے چرا لاتا ہوں
اس کو مہکے ہوئے آنگن کی تمنا تھی بہت
روز پودے میں گلابوں کے اٹھا لاتا ہوں
غموں کے ہجر سے پہلے کئی گرداب آتے ہیں
بہت آنکھوں میں اس کے بعد پھر سیلاب آتے ہیں
نظر کب کب اٹھانی ہے نظر کیسے جھکانی ہے
محبت کرنے والوں کو ہی یہ آداب آتے ہیں
کوئی جب ہاتھ دھیرے سے چھڑا کے گم ہی ہو جائے
کتاپِ زیست میں پھر تلخیوں کے باب آتے ہیں
بڑھاتے سوزش غم چارہ ساز کیا کرتے
جنون عشق میں ہم ساز باز کیا کرتے
ہجرکی شب تو مہکتے ہیں دل کے ویرانے
نظر کے پھول، لبوں کا گداز کیا کرتے
محبتوں میں بدن کی طلب اضافی ہے
جو سوز غم نہ جگائے وہ ساز کیا کرتے
رت جگے اس لیے سجاتے ہیں
خواب آنکھوں کو اب ڈراتے ہیں
وہ بھروسہ نہ چھوڑ بیٹھے کہیں
اس سے ہم یوں فریب کھاتے ہیں
زندگی جب بھی آزماتی ہے
حوصلے ہم بھی آزماتے ہیں
کیوں کہ اپنے خول میں سمٹا رہا
عمر بھر میں اس لیے تنہا رہا
بس تصور ساتھ میں تیرا رہا
تیری یادوں سے سدا مہکا رہا
ایسی بھی تنہائی سے گزرا ہوں میں
دور خود سے میں کہیں بیٹھا رہا
بن رہا ہے خود سے رشتہ آج کل
خاک پر بستر ہے اپنا آج کل
جس کو سمجھا تھا بھلا بیٹھا ہوں میں
آ رہا ہے یاد کتنا آج کل
دل کو پھر وہ ہی جنوں مطلوب ہے
پھر اسی کی ہے تمنا آج کل