Showing posts with label انوار زین. Show all posts
Showing posts with label انوار زین. Show all posts

Thursday, 27 January 2022

پھر بے خودی نے اس کو پکارا ہے آج کل

 پھر بے خودی نے اس کو پکارا ہے آج کل

بچھڑا ہوا وہ شخص ہمارا ہے آج کل

دل میں تِری طلب نے اٹھائی ہیں شورشیں

یادوں کا تیری ہم کو سہارا ہے آج کل

سرگوشیوں میں ہونے لگی ہے کسی سے بات

تنہائیوں کا ساتھ بھی پیارا ہے آج کل

Tuesday, 7 September 2021

زندگی روز نئے غم میں کما لاتا ہوں

 زندگی روز نئے غم میں کما لاتا ہوں

حادثوں سے تجھے ہر روز بچا لاتا ہوں

آپ بیٹھے رہیں ساحل کو یونہی تھامے ہوئے

میں بھنور سارے سمندر کے چرا لاتا ہوں

اس کو مہکے ہوئے آنگن کی تمنا تھی بہت

روز پودے میں گلابوں کے اٹھا لاتا ہوں

Sunday, 10 January 2021

غموں کے ہجر سے پہلے کئی گرداب آتے ہیں

 غموں کے ہجر سے پہلے کئی گرداب آتے ہیں

بہت آنکھوں میں اس کے بعد پھر سیلاب آتے ہیں

نظر کب کب اٹھانی ہے نظر کیسے جھکانی ہے

محبت کرنے والوں کو ہی یہ آداب آتے ہیں

کوئی جب ہاتھ دھیرے سے چھڑا کے گم ہی ہو جائے

کتاپِ زیست میں پھر تلخیوں کے باب آتے ہیں

Saturday, 9 January 2021

بڑھاتے سوزش غم چارہ ساز کیا کرتے

 بڑھاتے سوزش غم چارہ ساز کیا کرتے

جنون عشق میں ہم ساز باز کیا کرتے

ہجرکی شب تو مہکتے ہیں دل کے ویرانے

نظر کے پھول، لبوں کا گداز کیا کرتے

محبتوں میں بدن کی طلب اضافی ہے

جو سوز غم نہ جگائے وہ ساز کیا کرتے

Wednesday, 6 January 2021

رت جگے اس لیے سجاتے ہیں

 رت جگے اس لیے سجاتے ہیں

خواب آنکھوں کو اب ڈراتے ہیں

وہ بھروسہ نہ چھوڑ بیٹھے کہیں

اس سے ہم یوں فریب کھاتے ہیں

زندگی جب بھی آزماتی ہے

حوصلے ہم بھی آزماتے ہیں

Sunday, 3 January 2021

کیوں کہ اپنے خول میں سمٹا رہا

 کیوں کہ اپنے خول میں سمٹا رہا

عمر بھر میں اس لیے تنہا رہا

بس تصور ساتھ میں تیرا رہا

تیری یادوں سے سدا مہکا رہا

ایسی بھی تنہائی سے گزرا ہوں میں

دور خود سے میں کہیں بیٹھا رہا

Monday, 30 November 2020

بن رہا ہے خود سے رشتہ آج کل

 بن رہا ہے خود سے رشتہ آج کل

خاک پر بستر ہے اپنا آج کل

جس کو سمجھا تھا بھلا بیٹھا ہوں میں

آ رہا ہے یاد کتنا آج کل

دل کو پھر وہ ہی جنوں مطلوب ہے

پھر اسی کی ہے تمنا آج کل