رت جگے اس لیے سجاتے ہیں
خواب آنکھوں کو اب ڈراتے ہیں
وہ بھروسہ نہ چھوڑ بیٹھے کہیں
اس سے ہم یوں فریب کھاتے ہیں
زندگی جب بھی آزماتی ہے
حوصلے ہم بھی آزماتے ہیں
کوئی چاہت سے جوڑتا ہے ہمیں
جب بھی ہم خود کو توڑ لاتے ہیں
وہ مجھے بھول بھی تو سکتا ہے
یہ بھی تو واہمے ستاتے ہیں
ضبط پہ انحصاریاں کر کے
عشق میں روگ ہم کماتے ہیں
زین لگتا ہے طنز سا سب کو
آپ جس طرح مسکراتے ہیں
انوار زین
No comments:
Post a Comment