Wednesday, 6 January 2021

رت جگے اس لیے سجاتے ہیں

 رت جگے اس لیے سجاتے ہیں

خواب آنکھوں کو اب ڈراتے ہیں

وہ بھروسہ نہ چھوڑ بیٹھے کہیں

اس سے ہم یوں فریب کھاتے ہیں

زندگی جب بھی آزماتی ہے

حوصلے ہم بھی آزماتے ہیں

کوئی چاہت سے جوڑتا ہے ہمیں

جب بھی ہم خود کو توڑ لاتے ہیں

وہ مجھے بھول بھی تو سکتا ہے

یہ بھی تو واہمے ستاتے ہیں

ضبط پہ انحصاریاں کر کے

عشق میں روگ ہم کماتے ہیں

زین لگتا ہے طنز سا سب کو

آپ جس طرح مسکراتے ہیں


انوار زین

No comments:

Post a Comment