Showing posts with label سردار سوز. Show all posts
Showing posts with label سردار سوز. Show all posts

Monday, 19 February 2024

ان کو دیکھا تو طبیعت میں روانی آئی

 ان کو دیکھا تو طبیعت میں روانی آئی

دل کے اُجڑے ہوئے گلشن پہ جوانی آئی

پیاس کیا اس کی بُجھائیں گے کوئی عارض و لب

لبِ دریا نہ جسے پیاس بُجھانی آئی

گرمیٔ رنج و الم ہی میں بسر کی ہم نے

زندگی میں تو کوئی رُت نہ سُہانی آئی

Sunday, 18 February 2024

بچھڑ کے ہم سے نہ لی اس نے پھر خبر کوئی

 بچھڑ کے ہم سے نہ لی اُس نے پھر خبر کوئی

ہمارے حال سے غافِل تھا اس قدر کوئی

یہ ایک دل ہی نہیں، جان بھی فِدا کر دیں

نگاہِ ناز سے دیکھے ہمیں اگر کوئی

ہمیں بھی منزلِ مقصُود کا نشان مِلے

رہِ طلب میں ہو اپنا جو راہبر کوئی

Thursday, 15 February 2024

پھر نئی محفل سجا لی جائے گی

 پھر نئی محفل سجا لی جائے گی

پھر نظر ہم سے چُرا لی جائے گی

پُوچھنا ہے اُن کی نظروں سے مجھے

دل کی حسرت کب نکالی جائے گی

بعد مرنے کے اگر آیا پیام

بات اُن کی کیسے ٹالی جائے گی

Sunday, 10 December 2023

جب ان کے تصور میں تصویر نظر آئی

 جب ان کے تصور میں تصویر نظر آئی

ملنے کی بھی کچھ ان سے تدبیر نظر آئی

کیا شوخ نگاہی کا اس کی ہے اثر اب تک

کیوں قوسِ قزح مجھ کو شمشیر نظر آئی

دولت کے پُجاری بھی کیا دادِ سخن دیں گے

اس میں بھی ہمیں اپنی تحقیر نظر آئی

Friday, 8 December 2023

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں مجھے

 ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں مجھے

افشائے رازِ عشق کی جرأت نہیں مجھے

جلوے ہیں ان کے نو بہ نو میری نگاہ میں

اب ان کو غم یہ ہے غمِ فرقت نہیں مجھے

رکھنا ہے ان کے پاؤں پہ جا کر سرِ نیاز

رُک جا اجل کیا اتنی بھی مہلت نہیں مجھے

Friday, 4 February 2022

مائل ہوا جفا پہ وہ ترک وفا کے بعد

 مائل ہوا جفا پہ وہ ترکِ وفا کے بعد

بادِ سموم آئی ہے موجِ صبا کے بعد

دیکھا جسے بغور وہی سر کشیدہ تھا

جیسے کہ مشتِ خاک ہو سب کچھ خدا کے بعد

چاہا یہ تھا کچھ اور بھی حاصل ہو قربِ یار

وہ اور کھنچ گیا یہ اثر تھا دعا کے بعد