ان کو دیکھا تو طبیعت میں روانی آئی
دل کے اُجڑے ہوئے گلشن پہ جوانی آئی
پیاس کیا اس کی بُجھائیں گے کوئی عارض و لب
لبِ دریا نہ جسے پیاس بُجھانی آئی
گرمیٔ رنج و الم ہی میں بسر کی ہم نے
زندگی میں تو کوئی رُت نہ سُہانی آئی
ان کو دیکھا تو طبیعت میں روانی آئی
دل کے اُجڑے ہوئے گلشن پہ جوانی آئی
پیاس کیا اس کی بُجھائیں گے کوئی عارض و لب
لبِ دریا نہ جسے پیاس بُجھانی آئی
گرمیٔ رنج و الم ہی میں بسر کی ہم نے
زندگی میں تو کوئی رُت نہ سُہانی آئی
بچھڑ کے ہم سے نہ لی اُس نے پھر خبر کوئی
ہمارے حال سے غافِل تھا اس قدر کوئی
یہ ایک دل ہی نہیں، جان بھی فِدا کر دیں
نگاہِ ناز سے دیکھے ہمیں اگر کوئی
ہمیں بھی منزلِ مقصُود کا نشان مِلے
رہِ طلب میں ہو اپنا جو راہبر کوئی
پھر نئی محفل سجا لی جائے گی
پھر نظر ہم سے چُرا لی جائے گی
پُوچھنا ہے اُن کی نظروں سے مجھے
دل کی حسرت کب نکالی جائے گی
بعد مرنے کے اگر آیا پیام
بات اُن کی کیسے ٹالی جائے گی
جب ان کے تصور میں تصویر نظر آئی
ملنے کی بھی کچھ ان سے تدبیر نظر آئی
کیا شوخ نگاہی کا اس کی ہے اثر اب تک
کیوں قوسِ قزح مجھ کو شمشیر نظر آئی
دولت کے پُجاری بھی کیا دادِ سخن دیں گے
اس میں بھی ہمیں اپنی تحقیر نظر آئی
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں مجھے
افشائے رازِ عشق کی جرأت نہیں مجھے
جلوے ہیں ان کے نو بہ نو میری نگاہ میں
اب ان کو غم یہ ہے غمِ فرقت نہیں مجھے
رکھنا ہے ان کے پاؤں پہ جا کر سرِ نیاز
رُک جا اجل کیا اتنی بھی مہلت نہیں مجھے
مائل ہوا جفا پہ وہ ترکِ وفا کے بعد
بادِ سموم آئی ہے موجِ صبا کے بعد
دیکھا جسے بغور وہی سر کشیدہ تھا
جیسے کہ مشتِ خاک ہو سب کچھ خدا کے بعد
چاہا یہ تھا کچھ اور بھی حاصل ہو قربِ یار
وہ اور کھنچ گیا یہ اثر تھا دعا کے بعد