تمہارے ہاتھ سے پتھر لگا ہے
چلو جیسے تمہیں بہتر لگا ہے
اسے دنیا سے دلچسپی ہوئی ہے
مجھے اس حادثے سے ڈر لگا ہے
نشانہ ہی غلط باندھا گیا تھا
ہدف پر بھی خطا ہو کر لگا ہے
تمہیں کیسے خوشی ہو جیتنے کی
تمہارا کون سا لشکر لگا ہے
جسے دنیا سمجھ میں آ گئی ہے
اسے کچھ اور ہی چکر لگا ہے
امن شہزادی
No comments:
Post a Comment