اسے ملتا ہے مال و زر خدا کی جس پہ رحمت ہے
غلط سمجھے جہاں والے کہ یہ انجامِ محنت ہے
کہوں گا بے کسی، بے چارگی کی ایک مورت ہے
اگر پوچھے کوئی مجھ سے بشر کی کیا حقیقت ہے
کوئی بھی دل کشی اس میں نظر آئی نہیں مجھ کو
سنا تو تھا کہ یہ دنیا نہایت خوب صورت ہے
ہمیں دو وقت جو نانِ جوِیں ملتی ہے کھانے کو
خدا جانے یہ کس درویش کی ہم پر عنایت ہے
حقیقت میں ہے اک بارِ گراں یہ زندگی لاغر
تعجب ہے مگر پھر بھی تمہیں اس سے محبت ہے
اوم پرکاش لاغر
No comments:
Post a Comment