رب کا دُنیا کو بنانا عشق ہے
سجدہ آدم کو کرانا عشق ہے
آگ کا گُلزار ہونا معجزہ
آگ میں بے خوف جانا عشق ہے
دیکھنا ماں کو عبادت ہے، مگر
دیکھ کر پھر مُسکرانا عشق ہے
آسماں چھُو کر کبوتر کا مِرے
شام کو پھر لوٹ آنا عشق ہے
بے رُخی جس کی جلائے رات دن
اُس کے غم ہنس کر اُٹھانا عشق ہے
زندگی کا کُل اثاثہ، ایک تو
شاعری ہے، اک پُرانا عشق ہے
جا کے اکمل باپ کا پردیس میں
رِزق بچوں کا کمانا عشق ہے
اکمل حنیف
No comments:
Post a Comment