Thursday, 2 July 2026

قلم جدائی پہ نوحے لکھتا ہے

 قلم جُدائی پہ نوحے لِکھتا ہے

تمہارے جانے کا یہ نوحہ ساری کائنات نے

میرے ساتھ لِکھا ہے

ہم سب فِراق، نصیب، ہجر کا موسم اوڑھے

ایک دوسرے سے پِیٹھ موڑے بیٹھے ہیں

جُدائی کے پتے بالوں میں اُلجھے ہیں

اور چائے کی پیالی پر

موت تہ جمانے بیٹھی ہے

ہماری زبانوں پر برف جمی ہے

اور آنکھیں مُرجھا چکی ہیں

میری اُنگلیاں تمہارے لیے نظم لِکھتے ہوئے

کانپتی ہیں

اور سارے لفظ بِھیگے پڑے ہیں


ڈاکٹر صنوبر الطاف

No comments:

Post a Comment