آج تو کوئی پلا دے بھر کے پیمانے میں آگ
جس سے لگ جائے دل غمگیں کے غم خانے میں آگ
تھی سبُو میں جام میں شیشے میں پیمانے میں آگ
آگ ہی چاروں طرف تھی سارے مے خانے میں آگ
آپ چاہے نام اس کا مختلف رکھ لیں مگر
ایک ہی جلتی ہے کعبے اور بت خانے میں آگ
بزم ہستی میں نقاب اُلٹے ہوئے آؤ اگر
دیکھیں پھر لگتی ہے کیا اس آئینہ خانے میں آگ
روشنی تو دیکھ لیتے ہم شبِ ہجراں قمر
کاش لگ جاتی ہمارے گھر کے ویرانے میں آگ
اکرم قمر
No comments:
Post a Comment