گھر جلا میرا تو لوگوں نے تماشا دیکھا
یا خدا! میں نے تِری دنیا میں یہ کیا دیکھا
یہ جہاں خواب میں تھا وادئ رنگ و نکہت
جب کھلی آنکھ، دہکتا ہوا صحرا دیکھا
بن گئی پانو کی زنجیر غمِ دہر کی دھوپ
دور ہی سے تِری دیوار کا سایہ دیکھا
گھر جلا میرا تو لوگوں نے تماشا دیکھا
یا خدا! میں نے تِری دنیا میں یہ کیا دیکھا
یہ جہاں خواب میں تھا وادئ رنگ و نکہت
جب کھلی آنکھ، دہکتا ہوا صحرا دیکھا
بن گئی پانو کی زنجیر غمِ دہر کی دھوپ
دور ہی سے تِری دیوار کا سایہ دیکھا
جبینِ تشنہ لبی پر اگر نہ بل آتا
تو جانے دستِ ہوس کتنے جام چھلکاتا
سکوتِ آخرِ شب اور کربِ تنہائی
تِرے خیال سے اے کاش دل بہل جاتا
یہ سچ ہے کچھ نہ مِلا تیری یاد سے اے دوست
تجھے بھلاتا تو اپنی وفا پہ حرف آتا
جذبۂ کوہ کن و قیس ابھی باقی ہے
اے محبت تیری شوریدہ سری باقی ہے
تجھ کو بچھڑے ہوئے اے دوست زمانہ گزرا
مگر اب تک مِری آنکھوں میں نمی باقی ہے
روح کی یہ پیاس کیسی ہے کہ جلتا ہے بدن
ساقیا! اور پلا🍷 تشنہ لبی باقی ہے
شہر دل اجڑا تو برباد ہوا کیا کیا کچھ
نقش بر آب کی مانند مٹا کیا کیا کچھ
درد دل، کاہش جاں، سوزِ دروں، داغِ جگر
بے طلب تیری عنایت سے ملا کیا کیا کچھ
اف یہ بے گانگی و ترکِ تعلق کا عذاب
پا گئے ہم بھی وفاؤں کا صلہ کیا کیا کچھ