Showing posts with label محمود کنجاہی. Show all posts
Showing posts with label محمود کنجاہی. Show all posts

Saturday, 28 March 2026

گھر جلا میرا تو لوگوں نے تماشا دیکھا

 گھر جلا میرا تو لوگوں نے تماشا دیکھا

یا خدا! میں نے تِری دنیا میں یہ کیا دیکھا

یہ جہاں خواب میں تھا وادئ رنگ و نکہت

جب کھلی آنکھ، دہکتا ہوا صحرا دیکھا

بن گئی پانو کی زنجیر غمِ دہر کی دھوپ

دور ہی سے تِری دیوار کا سایہ دیکھا

Friday, 29 November 2024

جبین تشنہ لبی پر اگر نہ بل آتا

 جبینِ تشنہ لبی پر اگر نہ بل آتا

تو جانے دستِ ہوس کتنے جام چھلکاتا

سکوتِ آخرِ شب اور کربِ تنہائی

تِرے خیال سے اے کاش دل بہل جاتا

یہ سچ ہے کچھ نہ مِلا تیری یاد سے اے دوست

تجھے بھلاتا تو اپنی وفا پہ حرف آتا

Saturday, 19 October 2024

جذبۂ کوہکن و قیس ابھی باقی ہے

 جذبۂ کوہ کن و قیس ابھی باقی ہے

اے محبت تیری شوریدہ سری باقی ہے

تجھ کو بچھڑے ہوئے اے دوست زمانہ گزرا

مگر اب تک مِری آنکھوں میں نمی باقی ہے

روح کی یہ پیاس کیسی ہے کہ جلتا ہے بدن

ساقیا! اور پلا🍷 تشنہ لبی باقی ہے

Thursday, 17 October 2024

شہر دل اجڑا تو برباد ہوا کیا کیا کچھ

 شہر دل اجڑا تو برباد ہوا کیا کیا کچھ

نقش بر آب کی مانند مٹا کیا کیا کچھ

درد دل، کاہش جاں، سوزِ دروں، داغِ جگر

بے طلب تیری عنایت سے ملا کیا کیا کچھ

اف یہ بے گانگی و ترکِ تعلق کا عذاب

پا گئے ہم بھی وفاؤں کا صلہ کیا کیا کچھ