Showing posts with label عبدالمجید خان. Show all posts
Showing posts with label عبدالمجید خان. Show all posts

Thursday, 10 August 2023

کہاں شکوہ زمانے کا پس دیوار کرتے ہیں

 کہاں شکوہ زمانے کا پس دیوار کرتے ہیں

ہمیں کرنا ہے جو بھی ہم سر بازار کرتے ہیں

زمانے سے رواداری کا رشتہ اب بھی باقی ہے

مگر سودا کسی سے دل کا ہم اک بار کرتے ہیں

محاذ جنگ پر سینہ سپر ہو کر میں چلتا ہوں

مگر بزدل ہمیشہ پشت پر ہی وار کرتے ہیں

Monday, 3 July 2023

وابستہ ہیں ہزاروں الم ہر خوشی کے ساتھ

 وابستہ ہیں ہزاروں الم ہر خوشی کے ساتھ

ایک کھیل ہو رہا ہے مِری زندگی کے ساتھ

ان کی ادائے ناز پہ قربان جائیے

کرتے ہیں قتلِ عام مگر سادگی کے ساتھ

میں نے تو بند کر دیا الفت کا کاروبار

اب کون چھیڑتا ہے مجھے دل لگی کے ساتھ

Friday, 19 May 2023

اب اس سے بڑھ کے مجھے اور کیا سزا دے گا

 اب اس سے بڑھ کے مجھے اور کیا سزا دے گا

وہ بن کے دوست مِرا مجھ کو ہی دغا دے گا

مِری نشانی وہ رکھے گا اپنے پاس، مگر

حسیں گلاب کو اوراق میں دبا دے گا

تڑپتا دیکھ کے مجھ کو وہ خوش تو ہو گا بہت

میں ڈھونڈ پاؤں نہ اس کو پتہ چھپا دے گا

Thursday, 11 May 2023

تری نگاہ کرم کیوں ہمیں پہ زیادہ ہے

 تِری نگاہ کرم کیوں ہمیں پہ زیادہ ہے

زمانے! تُو ہی بتا کیا تِرا ارادہ ہے

کتابِ دل تو لکھی ہم نے شوق سے لیکن

پڑے گا کون اسے ہر ورق ہی سادہ ہے

بُھلانا چاہو ہمیں شوق سے بُھلا دو مگر

تمہیں بھلا نہ سکیں گے ہمارا وعدہ ہے

Wednesday, 10 May 2023

بیزار اس قدر ہیں تری بے رخی سے ہم

 بیزار اس قدر ہیں تِری بے رخی سے ہم

مدت ہوئی کہ ملتے نہیں ہیں کسی سے ہم

پوچھا کسی نے حال تو بس مسکرا دئیے

سچ بات کو بھی ٹال گئے سادگی سے ہم

اپنے بھی بد گماں ہیں زمانہ بھی ہے خفا

باز آئے تِرے عشق تِری دلبری سے ہم

Saturday, 11 September 2021

جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم

جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم

اپنوں کی رہنمائی سے گھبرا رہے ہیں ہم

تم نے تو اک نگاہ اٹھائی ہے اس طرف

سو سو امیدیں باندھ کے اِترا رہے ہیں ہم

ناکام ہو کے اپنی صدا لوٹ آئے گی

یہ جان کر بھی دشت میں چلا رہے ہیں ہم