کہاں شکوہ زمانے کا پس دیوار کرتے ہیں
ہمیں کرنا ہے جو بھی ہم سر بازار کرتے ہیں
زمانے سے رواداری کا رشتہ اب بھی باقی ہے
مگر سودا کسی سے دل کا ہم اک بار کرتے ہیں
محاذ جنگ پر سینہ سپر ہو کر میں چلتا ہوں
مگر بزدل ہمیشہ پشت پر ہی وار کرتے ہیں
کہاں شکوہ زمانے کا پس دیوار کرتے ہیں
ہمیں کرنا ہے جو بھی ہم سر بازار کرتے ہیں
زمانے سے رواداری کا رشتہ اب بھی باقی ہے
مگر سودا کسی سے دل کا ہم اک بار کرتے ہیں
محاذ جنگ پر سینہ سپر ہو کر میں چلتا ہوں
مگر بزدل ہمیشہ پشت پر ہی وار کرتے ہیں
وابستہ ہیں ہزاروں الم ہر خوشی کے ساتھ
ایک کھیل ہو رہا ہے مِری زندگی کے ساتھ
ان کی ادائے ناز پہ قربان جائیے
کرتے ہیں قتلِ عام مگر سادگی کے ساتھ
میں نے تو بند کر دیا الفت کا کاروبار
اب کون چھیڑتا ہے مجھے دل لگی کے ساتھ
اب اس سے بڑھ کے مجھے اور کیا سزا دے گا
وہ بن کے دوست مِرا مجھ کو ہی دغا دے گا
مِری نشانی وہ رکھے گا اپنے پاس، مگر
حسیں گلاب کو اوراق میں دبا دے گا
تڑپتا دیکھ کے مجھ کو وہ خوش تو ہو گا بہت
میں ڈھونڈ پاؤں نہ اس کو پتہ چھپا دے گا
تِری نگاہ کرم کیوں ہمیں پہ زیادہ ہے
زمانے! تُو ہی بتا کیا تِرا ارادہ ہے
کتابِ دل تو لکھی ہم نے شوق سے لیکن
پڑے گا کون اسے ہر ورق ہی سادہ ہے
بُھلانا چاہو ہمیں شوق سے بُھلا دو مگر
تمہیں بھلا نہ سکیں گے ہمارا وعدہ ہے
بیزار اس قدر ہیں تِری بے رخی سے ہم
مدت ہوئی کہ ملتے نہیں ہیں کسی سے ہم
پوچھا کسی نے حال تو بس مسکرا دئیے
سچ بات کو بھی ٹال گئے سادگی سے ہم
اپنے بھی بد گماں ہیں زمانہ بھی ہے خفا
باز آئے تِرے عشق تِری دلبری سے ہم
جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم
اپنوں کی رہنمائی سے گھبرا رہے ہیں ہم
تم نے تو اک نگاہ اٹھائی ہے اس طرف
سو سو امیدیں باندھ کے اِترا رہے ہیں ہم
ناکام ہو کے اپنی صدا لوٹ آئے گی
یہ جان کر بھی دشت میں چلا رہے ہیں ہم