فلمی گیت
اچھا جی میں ہاری، چلو مان جاؤ نا
دیکھی سب کی یاری، میرا دل جلاؤ نا
چھوٹے سے قصور پہ ایسے ہو خفا
رُوٹھے تو حضور تھے، میری کیا خطا
دیکھو دل نہ توڑو
چھوڑو، ہاتھ چھوڑو
فلمی گیت
اچھا جی میں ہاری، چلو مان جاؤ نا
دیکھی سب کی یاری، میرا دل جلاؤ نا
چھوٹے سے قصور پہ ایسے ہو خفا
رُوٹھے تو حضور تھے، میری کیا خطا
دیکھو دل نہ توڑو
چھوڑو، ہاتھ چھوڑو
فلمی گیت
رُک جانا نہیں، تُو کہیں ہار کے
کانٹوں پہ چل کے ملیں گے سائے بہار کے
او راہی، او راہی، او راہی، او راہی
سُورج دیکھ رُک گیا ہے، تیرے آگے جُھک گیا ہے
جب کبھی ایسے کوئی مستانہ
نکلے ہے اپنی دھن میں دیوانہ
آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ
ہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھ
حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا
ہاں مجھے دیکھ مجھے اب میری تصویر نہ دیکھ
یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکوں
خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ
فلمی گیت
میں کھو گیا یہیں کہیں
جواں ہے رُت سماں حسیں
کہاں ہے دل کسے پتہ
کہاں ہوں میں خبر نہیں
میں کھو گیا یہیں کہیں
فلمی گیت
مجھے درد دل کا پتہ نہ تھا
مجھے آپ کس لیے مل گئے
میں اکیلے یوں ہی مزے میں تھا
مجھے آپ کس لیے مل گئے
یوں ہی اپنے اپنے سفر میں گم
کہیں دور میں کہیں دور تم
فلمی گیت
ہم آج کہیں دل کھو بیٹھے
یوں سمجھو کسی کے ہو بیٹھے
ہم آج کہیں دل کھو بیٹھے
ہر دم جو کوئی پاس آنے لگا
بھید الفت کے سمجھانے لگا
نظروں سے نظر کا ٹکرانا
فلمی گیت
بوندیں نہیں ستارے ٹپکے ہیں کہکشاں سے
صدقے اتر رہے ہیں تم پر یہ آسماں سے
بوندیں نہیں ستارے ٹپکے ہیں کہکشاں سے
موتی کے رنگ رُت کے قطرے دمک رہے ہیں
یا ریشمی لٹوں میں جگنو چمک رہے ہیں
آنچل میں جیسے بجلی کوندے یہاں وہاں سے
یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں
ملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیں
ہیں زمانے میں عجب چیز محبت والے
درد خود بنتے ہیں، خود اپنی دوا ہوتے ہیں
حالِ دل مجھ سے نہ پوچھو مِری نظریں دیکھو
رازِ دل کے تو نگاہوں سے ادا ہوتے ہیں
فلمی گیت
دل جو نہ کہہ سکا
وہی رازِ دل کہنے کی رات آئی
دل جو نہ کہہ سکا
نغمہ سا کوئی جاگ اٹھا بدن میں
جھنکار کی سی تھرتھری ہے تن میں
فلمی گیت
نہ تم ہمیں جانو، نہ ہم تمہیں جانیں
مگر لگتا ہے کچھ ایسا میرا ہمدم مل گیا
نہ تم ہمیں جانو
یہ موسم یہ رات چپ ہے
یہ ہونٹوں کی بات چپ ہے
خموشی سنانے لگی ہے داستاں