Showing posts with label مجروح سلطانپوری. Show all posts
Showing posts with label مجروح سلطانپوری. Show all posts

Sunday, 3 December 2023

اچھا جی میں ہاری چلو مان جاؤ نا

 فلمی گیت


اچھا جی میں ہاری، چلو مان جاؤ نا

دیکھی سب کی یاری، میرا دل جلاؤ نا


چھوٹے سے قصور پہ ایسے ہو خفا

رُوٹھے تو حضور تھے، میری کیا خطا

دیکھو دل نہ توڑو

چھوڑو، ہاتھ چھوڑو

Saturday, 2 December 2023

رک جانا نہیں تو کہیں ہار کے

 فلمی گیت


رُک جانا نہیں، تُو کہیں ہار کے

کانٹوں پہ چل کے ملیں گے سائے بہار کے

او راہی، او راہی، او راہی، او راہی


سُورج دیکھ رُک گیا ہے، تیرے آگے جُھک گیا ہے

جب کبھی ایسے کوئی مستانہ

نکلے ہے اپنی دھن میں دیوانہ

Tuesday, 22 November 2022

آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ

 آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ

ہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھ

حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا

ہاں مجھے دیکھ مجھے اب میری تصویر نہ دیکھ

یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکوں

خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ

Sunday, 2 October 2022

میں کھو گیا یہیں کہیں

 فلمی گیت 


میں کھو گیا یہیں کہیں 

جواں ہے رُت سماں حسیں 

کہاں ہے دل کسے پتہ 

کہاں ہوں میں خبر نہیں 

میں کھو گیا یہیں کہیں 


Sunday, 18 September 2022

مجھے درد دل کا پتہ نہ تھا مجھے آپ کس لیے مل گئے

 فلمی گیت 


مجھے درد دل کا پتہ نہ تھا 

مجھے آپ کس لیے مل گئے 

میں اکیلے یوں ہی مزے میں تھا 

مجھے آپ کس لیے مل گئے


یوں ہی اپنے اپنے سفر میں گم 

کہیں دور میں کہیں دور تم 

Monday, 5 September 2022

ہم آج کہیں دل کھو بیٹھے

 فلمی گیت 


ہم آج کہیں دل کھو بیٹھے 

یوں سمجھو کسی کے ہو بیٹھے 

ہم آج کہیں دل کھو بیٹھے 


ہر دم جو کوئی پاس آنے لگا 

بھید الفت کے سمجھانے لگا 

نظروں سے نظر کا ٹکرانا 

Tuesday, 10 November 2020

بوندیں نہیں ستارے ٹپکے ہیں کہکشاں سے

 فلمی گیت


بوندیں نہیں ستارے ٹپکے ہیں کہکشاں سے

صدقے اتر رہے ہیں تم پر یہ آسماں سے

بوندیں نہیں ستارے ٹپکے ہیں کہکشاں سے


موتی کے رنگ رُت کے قطرے دمک رہے ہیں

یا ریشمی لٹوں میں جگنو چمک رہے ہیں

آنچل میں جیسے بجلی کوندے یہاں وہاں سے

Saturday, 7 November 2020

یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں

 یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں

ملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیں

ہیں زمانے میں عجب چیز محبت والے

درد خود بنتے ہیں، خود اپنی دوا ہوتے ہیں

حالِ دل مجھ سے نہ پوچھو مِری نظریں دیکھو

رازِ دل کے تو نگاہوں سے ادا ہوتے ہیں

Tuesday, 3 November 2020

دل جو نہ کہہ سکا وہی راز دل کہنے کی رات آئی

 فلمی گیت


دل جو نہ کہہ سکا

وہی رازِ دل کہنے کی رات آئی

دل جو نہ کہہ سکا


نغمہ سا کوئی جاگ اٹھا بدن میں

جھنکار کی سی تھرتھری ہے تن میں

Sunday, 1 November 2020

نہ تم ہمیں جانو نہ ہم تمہیں جانیں

 فلمی گیت


نہ تم ہمیں جانو، نہ ہم تمہیں جانیں

مگر لگتا ہے کچھ ایسا میرا ہمدم مل گیا

نہ تم ہمیں جانو


یہ موسم یہ رات چپ ہے

یہ ہونٹوں کی بات چپ ہے

خموشی سنانے لگی ہے داستاں

Wednesday, 29 July 2020

کوئی ہمدم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا

فلمی گیت

کوئی ہمدم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا
ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا
کوئی ہمدم نہ رہا، کوئی سہارا۔۔۔۔

شام تنہائی کی ہے آئے گی منزل کیسے
جو مجھے راہ دکھائے وہی تارا نہ رہا
کوئی ہمدم نہ رہا، کوئی سہارا۔۔۔۔

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
نگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہے
تو اے بہار گریزاں! کسی چمن میں رہے
مِرے جنوں کی مہک تیرے پیرہن میں رہے
مجھے نہیں کسی اسلوبِ شاعری کی تلاش
تِری نگاہ کا جادو مِرے سخن میں رہے

Wednesday, 22 July 2020

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
یوں ہی کب تلک "خدایا!" غم زندگی نباہیں؟
کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دشت رہبر
کہیں جگمگا اٹھی ہیں مِرے نقشِ پا سے راہیں
تِرے خانماں خرابوں کا چمن کوئی، نہ صحرا
یہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں

آ ہی جائے گی سحر مطلعِ امکاں تو کھلا

آ ہی جائے گی سحر مطلعِ امکاں تو کُھلا
نہ سہی بابِ قفس، روزنِ زنداں تو کھلا
لے کے آئی تو صبا اس گلِ چینی کا پیام
وہ سہی زخم کی صورت، لبِ خنداں تو کھلا
سیلِ رنگ آ ہی رہے گا، مگر اے کشتِ چمن
ضربِ موسم تو پڑی، بندِ بہاراں تو کھلا

دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھ

دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھ
ہے اب خزاں چمن میں نئے پیرہن کے ساتھ
سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ
اپنی 'کُلاہ' کج ہے اسی 'بانکپن' کے ساتھ
کس نے کہا کہ 'ٹوٹ' گیا 'خنجرِ' فرنگ؟
سینے پہ زخمِ نو بھی ہے داغِ کہن کے ساتھ

Sunday, 13 October 2019

چراغ دل کا جلاؤ بہت اندھیرا ہے

گیت

چراغ دل کا جلاؤ بہت اندھیرا ہے
کہیں سے لوٹ کے آؤ بہت اندھیرا ہے
چراغ دل کا جلاؤ۔۔۔۔۔

کہاں سے لاؤں وہ رنگت گئی بہاروں کی
تمہارے ساتھ گئی روشنی نظاروں کی
مجھے بھی پاس بلاؤ، بہت اندھیرا ہے
چراغ دل کا جلاؤ۔۔۔۔۔

شام غم کی قسم آج غمگیں ہیں ہم

گیت

شامِ غم کی قسم آج غمگیں ہیں ہم
آ بھی جا! آ بھی جا! آج میرے صنم
شام غم کی قسم 
دل پریشان ہے رات ویران ہے
دیکھ جا کس طرح آج تنہا ہیں ہم
شام غم کی قسم ۔۔۔

جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے

گیت

جب دل ہی ٹوٹ گیا
ہم جی کے کیا کریں گے
جب دل ہی ٹوٹ ۔۔۔۔

الفت کا دِیا ہم نے اس دل میں جلایا تھا
امید کے پھولوں سے اس گھر کو سجایا تھا
اک بھیدی لوٹ گیا

او میرے سونا رے سونا رے سونا رے

گیت

او میرے سونا رے سونا رے سونا رے
دے دوں گی جان جدا مت ہونا رے
میں نے تجھے ذرا دیر میں جانا
ہوا قصور خفا مت ہونا رے
او میرے سونا رے سونا رے سونا

تم بن جاؤں کہاں کہ دنیا میں آ کے

گیت

تم بِن جاؤں کہاں کہ دنیا میں آ کے
کچھ نہ پھر چاہا کبھی تم کو چاہ کے
تم بن ۔۔۔۔

رہ بھی سکو گے تم کیسے، ہو کے مجھ سے جدا
ہٹ جائیں گی دیواریں، سن کے میری صدا
آنا ہو گا تمہیں میرے لیے