یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
یوں ہی کب تلک "خدایا!" غم زندگی نباہیں؟
کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دشت رہبر
کہیں جگمگا اٹھی ہیں مِرے نقشِ پا سے راہیں
تِرے خانماں خرابوں کا چمن کوئی، نہ صحرا
کبھی جادۂ طلب سے جو پھِرا ہوں دل شکستہ
تِری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں بانہیں
"مِرے "عہد" میں نہیں ہے یہ نشانِ "سربلندی
یہ رنگے ہوئے "عمامے"، یہ جھکی جھکی کُلاہیں
مجروح سلطانپوری
No comments:
Post a Comment