Wednesday, 22 July 2020

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
یوں ہی کب تلک "خدایا!" غم زندگی نباہیں؟
کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دشت رہبر
کہیں جگمگا اٹھی ہیں مِرے نقشِ پا سے راہیں
تِرے خانماں خرابوں کا چمن کوئی، نہ صحرا
یہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں
کبھی جادۂ طلب سے جو پھِرا ہوں دل شکستہ
تِری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں بانہیں
"مِرے "عہد" میں نہیں ہے یہ نشانِ "سربلندی
یہ رنگے ہوئے "عمامے"، یہ جھکی جھکی کُلاہیں

مجروح سلطانپوری​

No comments:

Post a Comment