اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے
رونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سے
اس شہر کی دیواروں میں ہے قید مِرا غم
یہ دشت کی پہنائی میں ہیں یادوں کے جلسے
باتوں سے سوا ہوتی ہے کچھ وحشت دل اور
احباب پریشاں ہیں مِرے طرز عمل سے
اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے
رونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سے
اس شہر کی دیواروں میں ہے قید مِرا غم
یہ دشت کی پہنائی میں ہیں یادوں کے جلسے
باتوں سے سوا ہوتی ہے کچھ وحشت دل اور
احباب پریشاں ہیں مِرے طرز عمل سے
جو حروف لکھ گیا تھا مِری آرزو کا بچپن
انہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساون
وہ جو دن بکھر چکے ہیں وہ جو خواب مر چکے ہیں
میں انہی کا ہوں مجاورم مِرا دل انہی کا مدفن
یہی ایک آرزو تھی کہ مجھے کوئی پکارے
سو پکارتی ہے اب تک مجھے اپنے دل کی دھڑکن