Showing posts with label یوسف ظفر. Show all posts
Showing posts with label یوسف ظفر. Show all posts

Saturday, 23 April 2022

اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے

 اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے

رونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سے

اس شہر کی دیواروں میں ہے قید مِرا غم

یہ دشت کی پہنائی میں ہیں یادوں کے جلسے

باتوں سے سوا ہوتی ہے کچھ وحشت دل اور

احباب پریشاں ہیں مِرے طرز عمل سے

Wednesday, 2 June 2021

جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپن

 جو حروف لکھ گیا تھا مِری آرزو کا بچپن

انہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساون

وہ جو دن بکھر چکے ہیں وہ جو خواب مر چکے ہیں

میں انہی کا ہوں مجاورم مِرا دل انہی کا مدفن

یہی ایک آرزو تھی کہ مجھے کوئی پکارے

سو پکارتی ہے اب تک مجھے اپنے دل کی دھڑکن

Thursday, 5 April 2018

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے 
اس کو دھیان میں لاؤں کیسے، وہ سپنوں کا باسی ہے 
پھولوں کے گجرے توڑ گئی آکاش پہ شام سلونی شام 
وہ راجا خود کیسے ہوں گے جن کی یہ چنچل داسی ہے 
کالی بدریا سیپ سیپ تو بوند بوند سے بھر جائے گا 
دیکھ یہ بھوری مٹی تو بس میرے خون کی پیاسی ہے 

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ

یارو! ہر غم غمِ یاراں ہے قریب آ جاؤ 
پیارو! پھر فصلِ بہاراں ہے قریب آ جاؤ 
دور ہو کر بھی سنیں تم نے حکایاتِ وفا 
قرب میں بھی وہی عنواں ہے قریب آ جاؤ 
ہم محبت کے مسافر ہیں کہیں دیکھ نہ لے 
گھات میں گردشِ دوراں ہے قریب آ جاؤ 

بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں

بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں
ورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤں
دستانیں ہیں مکانوں کی زبانوں پہ رقم
پڑھ سکوں میں تو مکانوں سے بیاں کر جاؤں
میں منظم سے بھلا کیسے کروں سمجھوتا 
ڈوبنے والے ستاروں سے میں کیوں ڈر جاؤں

Friday, 30 March 2018

ہے گلوگیر بہت رات کی پہنائی بھی

ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی
تیرا غم بھی ہے مجھے اور غمِ تنہائی بھی
دشتِ وحشت میں بجز ریگِ رواں کوئی نہیں
آج کل شہر میں ہے لالۂ صحرائی بھی
میں زمانے میں تِرا غم ہوں بہ عنوانِ وفا
زندگی میری سہی ہے تیری رسوائی بھی

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا 
کہ اس کا غم ہی مِری زیست کا بہانہ ہوا 
نظر نے جھک کے کہا مجھ سے کیا دمِ رخصت 
میں سوچتا ہوں کہ کس دل سے وہ روانہ ہوا 
نمِ صبا، مئے مہتاب عطرِ زلفِ شمیم 
وہ کیا گیا کہ کوئی کارواں روانہ ہوا 

ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیں

ہم گرچہ دل و جان سے بے زار ہوئے ہیں
خوش ہیں کہ تِرے غم کے سزاوار ہوئے ہیں
اٹھے ہیں تِرے در سے اگر صورتِ دیوار
رخصت بھی تو جوں سایۂ دیوار ہوئے ہیں
کیا کہئے نظر آتی ہے کیوں خواب یہ دنیا
کیا جانیے کس خواب سے بیدار ہوئے ہیں

Monday, 5 March 2018

میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سے

میں لِپٹتا رہا ہوں خاروں سے 
تم نے پوچھا نہیں بہاروں سے 
چاندنی سے سحاب پاروں سے 
جی بہلتا ہے یادگاروں سے 
آ مِرے چاند، رات سُونی ہے 
بات بنتی نہیں ستاروں سے 

کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میں

کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میں
دیکھا ہے تمہِیں کو عمر بھر میں
معیارِ جمال و رنگ و بُو تھے
وہ جب تک رہے میری چشم تر میں
اب خواب و خیال بن گئے ہو
اب دل میں رہو، رہو نظر میں

محبت فیصلہ ہے اک نظر کا

محبت فیصلہ ہے اِک نظر کا
اگرچہ دردِ دل ہے عمر بھر کا
وہی آنسو دوائے دردِ دل ہے
جو آئینہ ہے رنگِ چارہ گر کا
تِرے دَر کی تمنا، اللہ! اللہ
پتہ پوچھا کئے ہم اپنے گھر کا

گزر رہے ہیں برابر تباہیوں کے جلوس

سوالی

گزر رہے ہیں برابر تباہیوں کے جلوس 
یہ زندگی کے مسافر کہاں چلے جائیں 
یہ اشتہار غموں کے الم کی تصویریں 
یہ زندگی ہے نہیں گرد زندگی بھی نہیں 
جواں امیدیں فضائے حیات سے مایوس 
تنورِ سینہ کا ایندھن ہیں وہ تمنائیں