Wednesday, 2 June 2021

جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپن

 جو حروف لکھ گیا تھا مِری آرزو کا بچپن

انہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساون

وہ جو دن بکھر چکے ہیں وہ جو خواب مر چکے ہیں

میں انہی کا ہوں مجاورم مِرا دل انہی کا مدفن

یہی ایک آرزو تھی کہ مجھے کوئی پکارے

سو پکارتی ہے اب تک مجھے اپنے دل کی دھڑکن

کوئی ٹوٹتا ستارہ مجھے کاش پھر صدا دے

کہ یہ کوہ و دشت و صحرا ہیں سکوتِ شب سے روشن

تِری منزلِ وفا میں ہوا خود سے آشنا میں

تِری یاد کا کرم ہے کہ یہی ہے دوست دشمن

تِرے روبرو ہوں لیکن نہیں روشناس تجھ سے

تجھے دیکھنے نہ دے گی تِرے دیکھنے کی الجھن

ظفر آج دل کا عالم ہے عجب میں کس سے پوچھوں

وہ صبا کدھر سے آئی جو کھلا گئی یہ گلشن


یوسف ظفر

No comments:

Post a Comment