ہر ایک شے سے محبت کی رشتہ داری رکھ
اب اس کو جنگ سمجھ اور جنگ جاری رکھ
نہ جانے کس کو وہ اپنا سمجھ کے اپنا لیں
نظر کو دل کو تمنا کو باری باری رکھ
اگر تمہاری ہے تنہا تو اس کو لے جاؤ
اگر ہے ساجھی یہ دنیا تو ساجھےداری رکھ
ہر ایک شے سے محبت کی رشتہ داری رکھ
اب اس کو جنگ سمجھ اور جنگ جاری رکھ
نہ جانے کس کو وہ اپنا سمجھ کے اپنا لیں
نظر کو دل کو تمنا کو باری باری رکھ
اگر تمہاری ہے تنہا تو اس کو لے جاؤ
اگر ہے ساجھی یہ دنیا تو ساجھےداری رکھ
میں تنگ دستیٔ مہلت سے اتنا چاہتا ہوں
خود اپنے آپ سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں
سوا بھرم کہیں کچھ بھی نہیں ہے تو پھر بھی
میں تھوڑی دور تِرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں
میں خود پہ قہر بھی ڈھاؤں حفاظتیں بھی کروں
میں اس خدائی صفت کو برتنا چاہتا ہوں
بڑھا دو درد کی لو اور کم ہے میرے لیے
ابھی یہ عشق میں پہلا قدم ہے میرے لیے
جہاں جہاں سے ہیں وابستہ خواب لوگوں کے
وہ ہر مقام بہت محترم ہے میرے لیے
مٹاتے جاؤ گے تم درج کرتے جائیں گے ہم
تمہارے واسطے خنجر قلم ہے میرے لیے
دیکھیے کس کو راس آتے ہیں
اچھے دن سب کے پاس آتے ہیں
ایک بھی کام کا نہیں ہوتا
فون دن میں پچاس آتے ہیں
کل تو وعدہ بھرے گلاس کا تھا
آج خالی گلاس🍷 آتے ہیں
شہر میری مجبوری گاؤں میری عادت ہے
ایک سانحہ مجھ پر، اک مِری وراثت ہے
یہ بھی اک کرشمہ ہے بیسویں صدی تیرا
موت کے شکنجے میں زندگی سلامت ہے
پھر انیس منبر پر مرثیہ پڑھیں آ کر
کربلا یہ دنیا ہے ہر گھڑی شہادت ہے