شہر میری مجبوری گاؤں میری عادت ہے
ایک سانحہ مجھ پر، اک مِری وراثت ہے
یہ بھی اک کرشمہ ہے بیسویں صدی تیرا
موت کے شکنجے میں زندگی سلامت ہے
پھر انیس منبر پر مرثیہ پڑھیں آ کر
کربلا یہ دنیا ہے ہر گھڑی شہادت ہے
جیسے چاہے جی لیجے پھینکیے یا پی لیجے
زندگی تو ہر گھر میں چار دن کی مہلت ہے
وقت کے بدلنے سے دل کہاں بدلتے ہیں
آپ سے محبت تھی، آپ سے محبت ہے
مسکرا کے کھل جانا کھل کے پھر بکھر جانا
ان دنوں تو پھولوں میں آپ سی شرارت ہے
ایک صدا یہ آتی ہے میری خوابگاہوں میں
دل کو چین آ جانا درد کی علامت ہے
تو گیا نمازوں میں، میں گیا جوازوں میں
وہ تِری عبادت تھی، یہ مِری عبادت ہے
میری رائے پوچھو تو یہ بری بھلی دنیا
آپ جتنے اچھے ہیں اتنی خوبصورت ہے
ناظم نقوی
No comments:
Post a Comment