Sunday, 13 June 2021

وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے

 وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے

آئے وہ شبِ وعدہ تصور کے سہارے

وہ کالی گھٹا اور وہ بڑھتے ہوئے دھارے

زاہد بھی اگر دیکھے تو ساقی کو پکارے

وہ جلوہ گاہِ ناز، وہ مخمور نگاہیں

اب کیا کہوں یہ لمحے کہاں میں نے گزارے

خود حسن کا معیار نِرا ذوقِ نظر ہیں

اتنے ہی حسیں آپ ہیں جتنے مجھے پیارے

بے وجہ نہیں حسن کی تنویر میں تابش

وہ دیتے ہیں خاکسترِ الفت کے شرارے

تم چاہو تو دو لفظوں میں طے ہوتے ہیں جھگڑے

کچھ شکوے ہیں بے جا مِرے کچھ عذر تمہارے

پھر جام بکف ہو گئی ہر چیز اثر آج

یاد آ گئے پھر مدھ بھری آنکھوں کے اشارے


اثر رامپوری

No comments:

Post a Comment