تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماں
جنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماں
اے ماں! تُو خوشبو کا نایاب استعارہ ہے
اے ماں! تُو عود میں عنبر میں تُو گلاب میں ماں
خود اپنی ممتا میں ہی نُور کا سمندر ہے
نہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماں
وہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میں
تھی پہلے صرف سوال اب ہے ہر جواب میں ماں
مِرے سوالوں کے سارے جواب لے آئی
چلی گئی تھی مگر لوٹی پھر سے خواب میں ماں
میں ماں کی زندہ نگاہوں کو خود میں جیتی ہوں
ہر انقلاب میں ہر دم ہر آب و تاب میں ماں
مِرے عروج کا وہ سلسلہ انعام و سزا
مِرے زوال میں ہر زندہ انقلاب میں ماں
عذرا پروین
No comments:
Post a Comment