ردا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
حیا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
نہ جانے کون ملنے آ رہا ہے
فضا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
خزاں کی رُت مہکنے لگ گئی ہے
صبا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
مجھے دیکھا ہے اس نے آنکھ بھر کر
ادا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
کلی اس کی ہنسی سے کھل رہی ہے
ہوا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
ملا ہے پیار اس کا اس طرح سے
وفا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
سمیرا یوسف
No comments:
Post a Comment