Showing posts with label جاوید منظر. Show all posts
Showing posts with label جاوید منظر. Show all posts

Tuesday, 12 March 2024

ہم جو بچھڑے ہیں تو آنکھوں کو بھگوتے ہی رہے

 ہم جو بچھڑے ہیں تو آنکھوں کو بھگوتے ہی رہے

موتی پلکوں پہ ہمہ وقت پروتے ہی رہے

ہم تو سوئے تھے گھنی نیند کی چادر اوڑھے

خواب کیا دیکھ لیا ایسا کہ روتے ہی رہے

یا تو وہ دے نہ سکے درد کے لمحوں کو خراج

یا نئے زخم ملے ہیں جنہیں دھوتے ہی رہے

Wednesday, 29 December 2021

دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھا

 دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھا

جو مِرے ہمراہ تھا،۔ لیکن مِرا سایہ نہ تھا

سوچ کا طوفان شادابی بہا کر لے گیا

ایسا لگتا ہے کہ یہ چہرہ کبھی میرا نہ تھا

موسمِ گل میں ہوائیں جیسے پتھرائی رہیں

خوشبوؤں کا کوئی جھونکا اس طرف آیا نہ تھا

Saturday, 25 December 2021

لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا

 لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا

تقدیر بگڑ جائے تو رونا نہیں اچھا

ہر ایک کو ہر رخ سے حقیقت نظر آئے

اس گھر میں کوئی ایسا کھلونا نہیں اچھا

جو لوگ سدا ظلم کے کانٹوں پہ پلے ہیں

ان کے لیے پھولوں کا بچھونا نہیں اچھا

Sunday, 19 December 2021

جو نہ مل بیٹھا ہو پھر اس سے شکایت کیسی

 جو نہ مِل بیٹھا ہو پھر اس سے شکایت کیسی

میں اکیلا ہی چلا ہوں تو رفاقت کیسی

خود تو آئیں گے نہیں اور بلائیں گے ہمیں

دیکھیۓ آپ نے ڈالی یہ روایت کیسی

میں نے چاہا تو بہت ٹوٹ کے چاہا نہ گیا

یوں بھی ٹوٹی ہے کئی بار قیامت کیسی

Saturday, 18 December 2021

دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھے

 دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھے

میری محبتوں کا صِلہ لے گیا مجھے

ویران اس نظر نے کیا مجھ کو اور پھر

تنہائیوں کا دشت بہا لے گیا مجھے

یاں بھی وہی زمین، وہی آسماں ملا

میں سوچتا رہا کہ وہ کیا لے گیا مجھے

Friday, 15 October 2021

اپنی محبتوں کو سلیقہ ملے کوئی

 اپنی محبتوں کو سلیقہ ملے کوئی

اس دردِ لا دوا کو مسیحا ملے کوئی

ہم کو گئی رُتوں کا نوشتہ ملے کوئی

ایسا بھی احتساب کا لمحہ ملے کوئی

برسوں گزر گئے ہیں اسی انتظار میں

میں بھی سنوں جو آپ سا لہجہ ملے کوئی

Wednesday, 13 October 2021

چاند ڈوبا تو یہ سزا پائی

 چاند ڈوبا تو یہ سزا پائی

بات کرنے لگی ہے تنہائی

کار زارِ حیات میں اکثر

ہم کو اپنوں نے دی ہے رُسوائی

پھر ملے بھی تو اجنبی کی طرح

کام آئی نہیں شناسائی

Tuesday, 12 October 2021

ہاں محفل یاراں میں ایسا بھی مقام آیا

 ہاں محفلِ یاراں میں ایسا بھی مقام آیا

میں خود کو بھلا بیٹھا جب بھی ترا نام آیا

میں اپنے ہی پیکر سے اس درجہ پریشاں تھا

سوچا کہ بکھر جاؤں جب بھی تہِ دام آیا

دنیا میں ہزاروں ہیں منصور بھی سرمد بھی

کیوں لوحِ صداقت پر اک میرا ہی نام آیا

لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا

 لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا

تقدیر بگڑ جائے تو رونا نہیں اچھا

ہر ایک کو ہر رُخ سے حقیقت نظر آئے

اس گھر میں کوئی ایسا کھلونا نہیں اچھا

جو لوگ سدا ظلم کے کانٹوں پہ پلے ہیں

ان کے لیے پھولوں کا بچھونا نہیں اچھا

Wednesday, 11 August 2021

ہاں محفل یاراں میں ایسا بھی مقام آیا

 ہاں محفلِ یاراں میں ایسا بھی مقام آیا

میں خود کو بُھلا بیٹھا جب بھی تِرا نام آیا

میں اپنے ہی پیکر سے اس درجہ پریشاں تھا

سوچا کہ بکھر جاؤں جب بھی تہِ دام آیا

دنیا میں ہزاروں ہیں منصور بھی سرمد بھی

کیوں لوحِ صداقت پر اک میرا ہی نام آیا