ہم جو بچھڑے ہیں تو آنکھوں کو بھگوتے ہی رہے
موتی پلکوں پہ ہمہ وقت پروتے ہی رہے
ہم تو سوئے تھے گھنی نیند کی چادر اوڑھے
خواب کیا دیکھ لیا ایسا کہ روتے ہی رہے
یا تو وہ دے نہ سکے درد کے لمحوں کو خراج
یا نئے زخم ملے ہیں جنہیں دھوتے ہی رہے
ہم جو بچھڑے ہیں تو آنکھوں کو بھگوتے ہی رہے
موتی پلکوں پہ ہمہ وقت پروتے ہی رہے
ہم تو سوئے تھے گھنی نیند کی چادر اوڑھے
خواب کیا دیکھ لیا ایسا کہ روتے ہی رہے
یا تو وہ دے نہ سکے درد کے لمحوں کو خراج
یا نئے زخم ملے ہیں جنہیں دھوتے ہی رہے
دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھا
جو مِرے ہمراہ تھا،۔ لیکن مِرا سایہ نہ تھا
سوچ کا طوفان شادابی بہا کر لے گیا
ایسا لگتا ہے کہ یہ چہرہ کبھی میرا نہ تھا
موسمِ گل میں ہوائیں جیسے پتھرائی رہیں
خوشبوؤں کا کوئی جھونکا اس طرف آیا نہ تھا
لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا
تقدیر بگڑ جائے تو رونا نہیں اچھا
ہر ایک کو ہر رخ سے حقیقت نظر آئے
اس گھر میں کوئی ایسا کھلونا نہیں اچھا
جو لوگ سدا ظلم کے کانٹوں پہ پلے ہیں
ان کے لیے پھولوں کا بچھونا نہیں اچھا
جو نہ مِل بیٹھا ہو پھر اس سے شکایت کیسی
میں اکیلا ہی چلا ہوں تو رفاقت کیسی
خود تو آئیں گے نہیں اور بلائیں گے ہمیں
دیکھیۓ آپ نے ڈالی یہ روایت کیسی
میں نے چاہا تو بہت ٹوٹ کے چاہا نہ گیا
یوں بھی ٹوٹی ہے کئی بار قیامت کیسی
دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھے
میری محبتوں کا صِلہ لے گیا مجھے
ویران اس نظر نے کیا مجھ کو اور پھر
تنہائیوں کا دشت بہا لے گیا مجھے
یاں بھی وہی زمین، وہی آسماں ملا
میں سوچتا رہا کہ وہ کیا لے گیا مجھے
اپنی محبتوں کو سلیقہ ملے کوئی
اس دردِ لا دوا کو مسیحا ملے کوئی
ہم کو گئی رُتوں کا نوشتہ ملے کوئی
ایسا بھی احتساب کا لمحہ ملے کوئی
برسوں گزر گئے ہیں اسی انتظار میں
میں بھی سنوں جو آپ سا لہجہ ملے کوئی
چاند ڈوبا تو یہ سزا پائی
بات کرنے لگی ہے تنہائی
کار زارِ حیات میں اکثر
ہم کو اپنوں نے دی ہے رُسوائی
پھر ملے بھی تو اجنبی کی طرح
کام آئی نہیں شناسائی
ہاں محفلِ یاراں میں ایسا بھی مقام آیا
میں خود کو بھلا بیٹھا جب بھی ترا نام آیا
میں اپنے ہی پیکر سے اس درجہ پریشاں تھا
سوچا کہ بکھر جاؤں جب بھی تہِ دام آیا
دنیا میں ہزاروں ہیں منصور بھی سرمد بھی
کیوں لوحِ صداقت پر اک میرا ہی نام آیا
لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا
تقدیر بگڑ جائے تو رونا نہیں اچھا
ہر ایک کو ہر رُخ سے حقیقت نظر آئے
اس گھر میں کوئی ایسا کھلونا نہیں اچھا
جو لوگ سدا ظلم کے کانٹوں پہ پلے ہیں
ان کے لیے پھولوں کا بچھونا نہیں اچھا
ہاں محفلِ یاراں میں ایسا بھی مقام آیا
میں خود کو بُھلا بیٹھا جب بھی تِرا نام آیا
میں اپنے ہی پیکر سے اس درجہ پریشاں تھا
سوچا کہ بکھر جاؤں جب بھی تہِ دام آیا
دنیا میں ہزاروں ہیں منصور بھی سرمد بھی
کیوں لوحِ صداقت پر اک میرا ہی نام آیا