Wednesday, 13 October 2021

چاند ڈوبا تو یہ سزا پائی

 چاند ڈوبا تو یہ سزا پائی

بات کرنے لگی ہے تنہائی

کار زارِ حیات میں اکثر

ہم کو اپنوں نے دی ہے رُسوائی

پھر ملے بھی تو اجنبی کی طرح

کام آئی نہیں شناسائی

ہے کہاں کشتِ کفر دشتِ خیال

دور تک میں ہوں اور تنہائی

ایک محور پہ آ نہیں سکتے

وہ درِ شوق اور جبیں سائی

خار سے گل جدا نہیں ہوتے

بات ہم نے انہیں یہ سمجھائی

زینتِ دار ہم بنے، لیکن

آپ لائے ہیں یہ قضا لائی

یوں بھی ہوتا ہے بارہا منظر

نیند آئی، مگر نہیں آئی


جاوید منظر

No comments:

Post a Comment