چاند ڈوبا تو یہ سزا پائی
بات کرنے لگی ہے تنہائی
کار زارِ حیات میں اکثر
ہم کو اپنوں نے دی ہے رُسوائی
پھر ملے بھی تو اجنبی کی طرح
کام آئی نہیں شناسائی
ہے کہاں کشتِ کفر دشتِ خیال
دور تک میں ہوں اور تنہائی
ایک محور پہ آ نہیں سکتے
وہ درِ شوق اور جبیں سائی
خار سے گل جدا نہیں ہوتے
بات ہم نے انہیں یہ سمجھائی
زینتِ دار ہم بنے، لیکن
آپ لائے ہیں یہ قضا لائی
یوں بھی ہوتا ہے بارہا منظر
نیند آئی، مگر نہیں آئی
جاوید منظر
No comments:
Post a Comment