Wednesday, 13 October 2021

جو بجھ گئیں تھیں وہ شمعیں جلا رہے ہیں ہم

 جو بجھ گئیں تھیں وہ شمعیں جلا رہے ہیں ہم

نیا ہے درد، نئی سر لگا رہے ہیں ہم

یہ دیکھتے ہو لبوں پر یہ مسکراتی ہنسی

بچھڑتے وقت اداسی چھپا رہے ہیں ہم

کسی کے سامنے الفت کا بس بھرم رکھ کر

نہیں ہے شوق، مگر مسکرا رہے ہیں ہم

ہماری آنکھ میں لالی یونہی نہیں اتری

کسی کے جانے کا ماتم منا رہے ہیں ہم

سلگتی آنکھ کو آنسو کا پیرہن دے کر

لگی تھی آگ جو دل میں بجھا رہے ہیں ہم

اداس رہنا ہمارے نصیب میں ہے دوست

تبھی تو گیت اداسی کے گا رہے ہیں ہم

ہمارے وقت نے آنے میں دیر کر دی قیس

سو اپنے وقت سے پہلے ہی جا رہے ہیں ہم


جمیل احمد قیس

No comments:

Post a Comment