وقفِ اُلفت ہو برُوئے کار آئے دل کرے
آدمی کچھ تو حقوقِ زندگی حاصل کرے
وہ نگاہِ ناز مجھ کو بستۂ مُشکل کرے
جو بیک گردش مہِ نو کو مہ کامل کرے
دل کو کیا کیا حسرتیں ہیں قربِ حُسن دوست کی
پہلے یہ دیوانہ اپنا قُرب تو حاصل کرے
وقفِ اُلفت ہو برُوئے کار آئے دل کرے
آدمی کچھ تو حقوقِ زندگی حاصل کرے
وہ نگاہِ ناز مجھ کو بستۂ مُشکل کرے
جو بیک گردش مہِ نو کو مہ کامل کرے
دل کو کیا کیا حسرتیں ہیں قربِ حُسن دوست کی
پہلے یہ دیوانہ اپنا قُرب تو حاصل کرے
بذات خود اب تو نہ تکلیف فرما
تصور ہی رہنے دے تشریف فرما
مِری ہستیٔ عارفانہ سے مطلب
تُو اپنے تجاہل کی تعریف فرما
اگر شدتِ دردِ دل دیکھنی ہے
توجہ میں کچھ اور تخفیف فرما
ہمیں سے جستجوئے دوست کی ٹھانی نہیں جاتی
تن آسانی بری شے ہے، تن آسانی نہیں جاتی
ہمیشہ دامن اشکِ خوں سے لالہ زار رہتا ہے
یہ فطرت کے تبسم کی گل افشانی نہیں جاتی
نظامِ دہر اگر میرے لیے بدلا تو کیا بدلا
کسی گھر سے بھی شامِ غم بآسانی نہیں جاتی
نمو کے جوش میں ذوقِ فنا حجاب بنا
شریکِ بحر جو قطرہ ہوا، حباب بنا
تُو آپ اپنے ہی جلووں میں رہ گیا گھر کر
تِرا ہی عکس تِرے حُسن کا جواب بنا
بچھڑ کے تجھ سے تِرا سایہ جہاں افروز
سحر کو مہر بنا،۔ شب کا ماہتاب بنا