Showing posts with label حیدر دہلوی. Show all posts
Showing posts with label حیدر دہلوی. Show all posts

Thursday, 11 June 2026

وقف الفت ہو بروئے کار آئے دل کرے

 وقفِ اُلفت ہو برُوئے کار آئے دل کرے

آدمی کچھ تو حقوقِ زندگی حاصل کرے

وہ نگاہِ ناز مجھ کو بستۂ مُشکل کرے

جو بیک گردش مہِ نو کو مہ کامل کرے

دل کو کیا کیا حسرتیں ہیں قربِ حُسن دوست کی

پہلے یہ دیوانہ اپنا قُرب تو حاصل کرے

Sunday, 26 October 2025

بذات خود اب تو نہ تکلیف فرما

 بذات خود اب تو نہ تکلیف فرما

تصور ہی رہنے دے تشریف فرما

مِری ہستیٔ عارفانہ سے مطلب

تُو اپنے تجاہل کی تعریف فرما

اگر شدتِ دردِ دل دیکھنی ہے

توجہ میں کچھ اور تخفیف فرما

Friday, 26 July 2024

ہمیں سے جستجوئے دوست کی ٹھانی نہیں جاتی

 ہمیں سے جستجوئے دوست کی ٹھانی نہیں جاتی

تن آسانی بری شے ہے، تن آسانی نہیں جاتی

ہمیشہ دامن اشکِ خوں سے لالہ زار رہتا ہے

یہ فطرت کے تبسم کی گل افشانی نہیں جاتی

نظامِ دہر اگر میرے لیے بدلا تو کیا بدلا

کسی گھر سے بھی شامِ غم بآسانی نہیں جاتی

Sunday, 7 February 2021

نمو کے جوش میں ذوق فنا حجاب بنا

نمو کے جوش میں ذوقِ فنا حجاب بنا

شریکِ بحر جو قطرہ ہوا، حباب بنا

تُو آپ اپنے ہی جلووں میں رہ گیا گھر کر

تِرا ہی عکس تِرے حُسن کا جواب بنا

بچھڑ کے تجھ سے تِرا سایہ جہاں افروز

سحر کو مہر بنا،۔ شب کا ماہتاب بنا