عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ کی گلی ہے اور ہم ہیں
عروجِ زندگی ہے اور ہم ہیں
جمی ہیں گنبدِ خضریٰ پر نظریں
سرورِ سرمدی ہے اور ہم ہیں
درِ حضرتﷺ پر اپنی شان دیکھو
وفا کی چاندنی ہے اور ہم ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ کی گلی ہے اور ہم ہیں
عروجِ زندگی ہے اور ہم ہیں
جمی ہیں گنبدِ خضریٰ پر نظریں
سرورِ سرمدی ہے اور ہم ہیں
درِ حضرتﷺ پر اپنی شان دیکھو
وفا کی چاندنی ہے اور ہم ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زباں پہ نامِ محمدﷺ جو بار بار آئے
تو کیوں نہ گلشنِ توحید پر نکھار آئے
جو دل کی سمت نظر کی تو سامنے تھے رسولؐ
پکارنے کو تو ہم جا بجا پکار آئے
بکھر گئے افقِ جاں پہ رنگِ صبحِ ازل
عجب طرح سے مجھے مژدۂ بہار آئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ کو مرنے میں بھی جینے کو قرینہ چاہیے
لطفِ محبوبِﷺ خدا خاکِ مدینہ چاہیے
آئینے پر دل کے ہو نورِ محمدﷺ کی جِلا
جو قیامت تک چلے ایسا سفینہ چاہیے
جلوۂ سرکارؐ تو نظروں کا مسکن ہے مگر
چشمِ بینا چاہیے،۔ ہاں چشمِ بینا چاہیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تا ابد ممکن نہیں تنویرِ فاراں کا جواب
پرتَوِ روئے نبیﷺ سے آئینے ہیں آب آب
مل نہیں سکتا قیامت تک کہیں اُس کا جواب
جس نے پتھریلی زمینوں پر اُگائے ہیں گلاب
مصطفیٰ یا مصطفیٰ یا مصطفیٰ یا مصطفیٰﷺ
بس یہی میرا سبق ہے بس یہی میرا نصاب
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طوافِ گنبدِ خضریٰ جو راس آیا مدینے میں
نظر نے اک سرورِ جاوداں پایا مدینے میں
یہاں سب کچھ بقدرِ وسعتِ اُمید ملتا ہے
سوالی بن کے جس نے ہاتھ پھیلایا مدینے میں
بہر لمحہ بہر لحظہ بہر جلوہ بہر عنواں
زمیں پر خُلد کا عالم نظر آیا مدینے میں