Showing posts with label عارف اکبرآبادی. Show all posts
Showing posts with label عارف اکبرآبادی. Show all posts

Wednesday, 22 May 2024

محمد کی گلی ہے اور ہم ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


محمدﷺ کی گلی ہے اور ہم ہیں

عروجِ زندگی ہے اور ہم ہیں

جمی ہیں گنبدِ خضریٰ پر نظریں

سرورِ سرمدی ہے اور ہم ہیں

درِ حضرتﷺ پر اپنی شان دیکھو

وفا کی چاندنی ہے اور ہم ہیں

Tuesday, 21 May 2024

زباں پہ نام محمد جو بار بار آئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 زباں پہ نامِ محمدﷺ جو بار بار آئے

تو کیوں نہ گلشنِ توحید پر نکھار آئے

جو دل کی سمت نظر کی تو سامنے تھے رسولؐ

پکارنے کو تو ہم جا بجا پکار آئے

بکھر گئے افقِ جاں پہ رنگِ صبحِ ازل

عجب طرح سے مجھے مژدۂ بہار آئے

Monday, 20 May 2024

مجھ کو مرنے میں بھی جینے کو قرینہ چاہیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مجھ کو مرنے میں بھی جینے کو قرینہ چاہیے

لطفِ محبوبِﷺ خدا خاکِ مدینہ چاہیے

آئینے پر دل کے ہو نورِ محمدﷺ کی جِلا

جو قیامت تک چلے ایسا سفینہ چاہیے

جلوۂ سرکارؐ تو نظروں کا مسکن ہے مگر

چشمِ بینا چاہیے،۔ ہاں چشمِ بینا چاہیے

Sunday, 19 May 2024

تا ابد ممکن نہیں تنویر فاراں کا جواب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تا ابد ممکن نہیں تنویرِ فاراں کا جواب

پرتَوِ روئے نبیﷺ سے آئینے ہیں آب آب

مل نہیں سکتا قیامت تک کہیں اُس کا جواب

جس نے پتھریلی زمینوں پر اُگائے ہیں گلاب

مصطفیٰ یا مصطفیٰ یا مصطفیٰ یا مصطفیٰﷺ

بس یہی میرا سبق ہے بس یہی میرا نصاب

Thursday, 1 February 2024

طواف گنبد خضریٰ جو راس آیا مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


طوافِ گنبدِ خضریٰ جو راس آیا مدینے میں

نظر نے اک سرورِ جاوداں پایا مدینے میں

یہاں سب کچھ بقدرِ وسعتِ اُمید ملتا ہے

سوالی بن کے جس نے ہاتھ پھیلایا مدینے میں

بہر لمحہ بہر لحظہ بہر جلوہ بہر عنواں

زمیں پر خُلد کا عالم نظر آیا مدینے میں