آندھیوں کی زد میں رہ کر قافلہ چلتا رہا
روشنی کم ہو گئی لیکن دِیا جلتا رہا
سال بھر کے بعد بھی برسا نہ جب ابرِ کرم
جل رہا تھا شہر جو آتش بدن جلتا رہا
یہ نہ سوچا کتنے قاتل گھات میں تھے چار سُو
مجھ کو چلنا تھا تری جانب سو میں چلتا رہا
آندھیوں کی زد میں رہ کر قافلہ چلتا رہا
روشنی کم ہو گئی لیکن دِیا جلتا رہا
سال بھر کے بعد بھی برسا نہ جب ابرِ کرم
جل رہا تھا شہر جو آتش بدن جلتا رہا
یہ نہ سوچا کتنے قاتل گھات میں تھے چار سُو
مجھ کو چلنا تھا تری جانب سو میں چلتا رہا
تکمیل آرزو کا اشارہ نہیں ملا
دریا تو مل گیا ہے کنارہ نہیں ملا
لوٹا ہوں بے قرار فلک سے ہزار بار
تھی جس کی جستجو وہ ستارہ نہیں ملا
اک بار جو ملا تھا دل و جاں لیے ہوئے
وہ شخص زندگی میں دوبارہ نہیں ملا
متاع ہوش لٹ جانے کے دن ہیں
دل ناداں کو سمجھانے کے دن ہیں
میں ہر موسم میں ان سے پوچھتا ہوں
کدھر جاؤں کدھر جانے کے دن ہیں
نیا پن سرد ہوتا رہا ہے
پرانی آگ سلگانے کے دن ہیں
نئے انداز سے دیدار کر لوں پھر چلے جانا
میں اپنی روح کو بیدار کر لوں پھر چلے جانا
ہزاروں خواب دیکھے تھے مری معصوم آنکھوں نے
میں ان کا سرسری اظہار کر لوں پھر چلے جانا
ہوس نے آج تک جو عیش کے پیکر بنائے ہیں
انہیں پوری طرح مسمار کر لوں پھر چلے جانا