Showing posts with label جی آر کنول. Show all posts
Showing posts with label جی آر کنول. Show all posts

Friday, 19 September 2025

آندھیوں کی زد میں رہ کر قافلہ چلتا رہا

آندھیوں کی زد میں رہ کر قافلہ چلتا رہا

روشنی کم ہو گئی لیکن دِیا جلتا رہا

سال بھر کے بعد بھی برسا نہ جب ابرِ کرم

جل رہا تھا شہر جو آتش بدن جلتا رہا

یہ نہ سوچا کتنے قاتل گھات میں تھے چار سُو

مجھ کو چلنا تھا تری جانب سو میں چلتا رہا

Sunday, 6 July 2025

تکمیل آرزو کا اشارہ نہیں ملا

 تکمیل آرزو کا اشارہ نہیں ملا

دریا تو مل گیا ہے کنارہ نہیں ملا

لوٹا ہوں بے قرار فلک سے ہزار بار

تھی جس کی جستجو وہ ستارہ نہیں ملا

اک بار جو ملا تھا دل و جاں لیے ہوئے

وہ شخص زندگی میں دوبارہ نہیں ملا

Friday, 24 January 2025

متاع ہوش لٹ جانے کے دن ہیں

 متاع ہوش لٹ جانے کے دن ہیں

دل ناداں کو سمجھانے کے دن ہیں

میں ہر موسم میں ان سے پوچھتا ہوں

کدھر جاؤں کدھر جانے کے دن ہیں

نیا پن سرد ہوتا رہا ہے

پرانی آگ سلگانے کے دن ہیں

Wednesday, 6 April 2022

نئے انداز سے دیدار کر لوں پھر چلے جانا

نئے انداز سے دیدار کر لوں پھر چلے جانا

میں اپنی روح کو بیدار کر لوں پھر چلے جانا

ہزاروں خواب دیکھے تھے مری معصوم آنکھوں نے

میں ان کا سرسری اظہار کر لوں پھر چلے جانا

ہوس نے آج تک جو عیش کے پیکر بنائے ہیں

انہیں پوری طرح مسمار کر لوں پھر چلے جانا