Wednesday, 6 April 2022

نئے انداز سے دیدار کر لوں پھر چلے جانا

نئے انداز سے دیدار کر لوں پھر چلے جانا

میں اپنی روح کو بیدار کر لوں پھر چلے جانا

ہزاروں خواب دیکھے تھے مری معصوم آنکھوں نے

میں ان کا سرسری اظہار کر لوں پھر چلے جانا

ہوس نے آج تک جو عیش کے پیکر بنائے ہیں

انہیں پوری طرح مسمار کر لوں پھر چلے جانا

تمہاری دید کے جو منتظر تھے ایک مدت سے

مزین وہ در و دیوار کر لوں پھر چلے جانا

وہ جن کو تھام کر تم نے مجھے جنبش عطا کی تھی

میں ان ہاتھوں سے تم کو پیار کر لوں پھر چلے جانا

تمہاری دید کے جو منتظر تھے ایک مدت سے

مزین وہ در و دیوار کر لوں پھر چلے جانا

وہ جس پر ٹھوکریں کھا کر کنول سے ملنے آئے ہو

وہ رستہ شوق کا ہموار کر لوں پھر چلے جانا

 

جی آر کنول

ڈاکٹر گلشن راٸے کنول

No comments:

Post a Comment