Wednesday, 6 April 2022

قاتل سبھی تھے چل دئیے مقتل سے راتوں رات

قاتل سبھی تھے چل دئیے مقتل سے راتوں رات

تنہا کھڑی لرزتی رہی صرف میری ذات

تہذیب کی جو اونچی عمارت ہے ڈھا نہ دوں

جینے کے رکھ رکھاؤ سے ملتی نہیں نجات

خوابوں کی برف پگھلی تو ہر عکس دُھل گیا

اپنوں کی بات بن گئی اک اجنبی کی بات

کانٹوں کی سیج پر چلوں شعلوں کی مے پیوں

سنگین مرحلوں کا سفر کون دے گا سات

سورج بھی تھک چکا ہے کہاں روشنی کرے

ورثے میں بٹ گئی ہے اندھیروں کی کائنات

سرگوشی بھی کروں تو بکھر جائے ایک گونج

بہروں کے اس ہجوم میں سنتا ہے کون بات

جھنجھلا کے کیوں نہ چھین لوں ٹوٹا ہے وہ عذاب

پھر وقت گھومتا ہے لیے درد کی زکات


رؤف خلش

No comments:

Post a Comment