Showing posts with label شاہ حاتم. Show all posts
Showing posts with label شاہ حاتم. Show all posts

Thursday, 20 August 2020

نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھا

نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھا
جو سودا اپنے دیوانے میں دیکھا
برابر اوس کی زلفوں کے سیہ بخت
میں اپنے بخت کو شانے میں دیکھا
کسی ہندو مسلماں نے خدا کو
نہ کعبے میں نہ بتخانے میں دیکھا

جگ میں بے محبوب جینا زندگی برباد ہے

کاملوں کی یہ سخن مدت سوں مجھ کو یاد ہے
جگ میں بے محبوب جینا زندگی برباد ہے
بندگی سوں سرو قد کی اک قدم باہر نہیں
سرو گلشن بیچ کہتے ہیں مگر آزاد ہے
بے مدد زلفوں کی اس کے حسن نے قیدی کیا
صید دلِ بے دام کرنا صنعتِ استاد ہے

Tuesday, 6 February 2018

ابر میں یاد یار آوے ہے

ابر میں یادِ یار آوے ہے 
گریہ بے اختیار آوے ہے 
باغ سے گل عذار آوے ہے 
بوئے گل پر سوار آوے ہے 
اے خزاں بھاگ جا چمن سے شتاب 
ورنہ فوجِ بہار آوے ہے 

ایک مدت سے طلب گار ہوں کن کا ان کا

ایک مدت سے طلبگار ہوں کن کا ان کا 
تشنۂ حسرت دیدار ہوں، کن کا ان کا 
جان کو بیچ کے یہ نقدِ دل اب لایا ہوں 
سب سے پہلے میں خریدار ہوں کن کا ان کا 
امتداد اس مِرے بیمار کا مت پوچھ طبیب 
روزِ میثاق سے بیمار ہوں کن کا ان کا 

مضمون خط کو دیکھ ترے ہم بہت ڈرے

مضمونِ خط کو دیکھ تِرے ہم بہت ڈرے 
جتنے مسودے تھے رہے طاق پر دھرے
جیتا ہے یا کہ مر گیا، دل کی خبر نہیں 
یادش بخیر ہو یا خدا مغفرت کرے
آرامِ زندگی نہیں اس دل کے ہاتھ سے 
عمرِ دوبارہ ہو جو یہ دشمن کہیں مرے

Thursday, 12 January 2017

عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہے

عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہے
ان کے عالم کا زمیں اور آسماں ہی اور ہے
پوچھتا پھرتا ہے کیا ہر ایک سے ان کا سراغ
لامکاں ہیں ان کے رہنے کا مکاں ہی اور ہے
کیا خریدے گا خراب آباد کے بازار میں
درد کی ہر جنس جس میں وہ دوکاں ہی اور ہے

جاتے ہوئے ادھر بھی وہ جانا نہ ہو گیا

جاتے ہوئے ادھر بھی وہ جانا، نہ ہو گیا
آئینہ خانہ دل کا، پری خانہ ہو گیا
لکھتا تھا سوزِ دل کا میں اس شمع رو کے تئیں
کاغذ بھی تاؤ کھا پرِ پروانہ ہو گیا
زنجیر زلف کی تِرے حلقوں میں یک بیک
دل سا سیانا دیکھتے دیوانہ ہو گیا

Monday, 17 October 2016

کہاں چلے ہو مجھے چھوڑ دوستاں تنہا

کہاں چلے ہو مجھے چھوڑ دوستاں تنہا
میں بِن تمہارے رہوں کس طرح یہاں تنہا
کہا اے یار نظر کر، کہ روزِ اول سے
جو اس جہان سے آیا ہے اس جہاں تنہا
دو دم کی سیر کر آپس میں باغِ دنیا بیچ
اسی طرح سے چلا جائے گا وہاں تنہا

اس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئے

اس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئے
سب چھوڑ ہم کو غم میں نہ جانے کدھر گئے
جو اس پری کو شیشۂ دل میں اتارتے 
وے علمِ عاشقی کے سیانے کدھر گئے
معلوم ہے کسی کو کہ وہ آج شعلہ خُو
مجھ کو لگا کے آگ لگانے کدھر گئے

Thursday, 5 May 2016

بھرا مستوں نے ہے مے خانۂ عشق

بھرا مستوں نے ہے میخانۂ عشق
سدا لبریز ہے پیمانۂ عشق
جلے ہے کس مزے سے شمع رو پر
دلِ عشاق ہے پروانۂ عشق
جنوں کے دشت گردوں کی نظر میں
ہے رشکِ گلستان پروانۂ عشق

درد دل میری آہ سے پوچھو

دردِ دل میری آہ سے پوچھو
سبب اس کی نگاہ سے پوچھو
باعثِ تیرہ بختئ عالم
اسکی زلفِ سیاہ سے پوچھو
اسکی تیغِ ستم کا شرح و بیاں
جا کسی بے گناہ سے پوچھو

جب سنا موتی نے تجھ دنداں کے موتی کا بہا

جب سُنا موتی نے تجھ دنداں کے موتی کا بہا
آب میں شرمندگی سوں ڈوب جوں پانی بہا
مردماں کو دیکھ کر بِسمل تِرے کوچہ کے بیچ
ڈر گیا اور چشم سے آنسو کے جا ہے خوں بہا
اب تمہارے سُرخ لب ہم نے تاڑ کر پوچھا تھا مول
جوہری کہنے لگے یہ لعل ہے گا بے بہا

Wednesday, 20 April 2016

آب حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا

آبِ حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا
مانند خضرؑ جگ میں اکیلا جیا تو کیا
شیریں لباں سوں سنگدلوں کو اثر نہیں
فرہاد کام کوہ کنی کا کیا تو کیا
جلنا لگن میں شمع صفت سخت کام ہے
پروانہ یوں شتاب عبث جی دیا تو کیا

یہاں طالعوں سے ملتا ہے پیارا

یہاں طالعوں سے ملتا ہے پیارا
عبث دیکھے ہے زاہد استخارا
میں پایا ہوں ولے تجھ چشم کا بھید
نہ مانگوں کا کبھی ان کا اشارا 
نہالِ دوستی کو کاٹ ڈالا
دِکھا کر شوخ نے اَبرو کا آرا

Monday, 18 April 2016

شیخ تو تو مرید ہستی ہے

شیخ! تُو تو مریدِ ہستی ہے
مۓ غفلت کی تجھ کو مستی ہے
طوفِ دل چھوڑ جائے کعبہ کو
بس کہ فطرت میں تیری پستی ہے
کیوں چڑھے ہیں گدھے گدھے اوپر
تیری داڑھی کو خلق ہنستی ہے

یار کا مجھ کو اس سبب سے ڈر ہے

یار کا مجھ کو اس سبب سے ڈر ہے
شوخ ظالم ہے اور سِتم گر ہے​
دیکھ سرو چمن تِرے قد کُوں
خجل ہے، پاگل ہے، بے بر ہے
حق میں عاشق کے تجھ لباں کا بچن
قند ہے، نیشکر ہے، شکر ہے

خال اس کے نے دل لیا میرا

خال اس کے نے دل لِیا میرا
تِل میں ان نے لہو پِیا میرا
جان بے درد کو ملا کیوں تھا
آگے آیا مِرے کِیا میرا 
اسکے کوچہ میں مجھ کو پھِرتا دیکھ
رشک کھاتی ہے آسیا میرا

چھپا نہیں جابجا حاضر ہے پیارا

چھپا نہیں جابجا حاضر ہے پیارا
کہاں وہ چشم جو ماریں نظارا
جدا نہیں سب ستی تحقیق کر دیکھ
ملا ہے سب سے اور سب سے ہے نیارا
مسافر اٹھ تجھے چلنا ہے منزل
بجے ہے کوچ کا ہر دم نقارا