Monday 17 October 2016

کہاں چلے ہو مجھے چھوڑ دوستاں تنہا

کہاں چلے ہو مجھے چھوڑ دوستاں تنہا
میں بِن تمہارے رہوں کس طرح یہاں تنہا
کہا اے یار نظر کر، کہ روزِ اول سے
جو اس جہان سے آیا ہے اس جہاں تنہا
دو دم کی سیر کر آپس میں باغِ دنیا بیچ
اسی طرح سے چلا جائے گا وہاں تنہا
عجب طرح سے ہے ملکِ عدم میں آمد و رفت
کہ آتے جاتے جو دیکھا، یگاں یگاں تنہا
کوئی کسی کا نہیں دوست سب یہ باتیں ہیں
جو ہوتے دوست تجھے چھوڑتے کہاں تنہا
نہ مے نہ ابر، نہ ساقی نہ ہم، نہ دل نہ دماغ
کسے خوش آئے یہاں سیرِ گلستاں تنہا
ادا و ناز و کرشمہ، جفا و جور و ستم
اُدھر یہ سب ہیں، اِدھر ایک میری جاں تنہا
صنم کی زلف سے دعویٰ کیا تھا سنبل نے
میں اس کو کھینچ لے آیا ہوں، مُو کشاں تنہا
چمن خراب کیا، ہو خزاں کا خانہ خراب
نہ گُل رہا ہے نہ بلبل، ہے باغباں تنہا
میں ایک روز چلا جائے تھا بیاباں کو
خراب و خستہ و حیراں و ناتواں تنہا
جو اس میں حضرتِ صائب نے مجھ کو فرمایا
کہ دیکھتا ہوں میں تجھ کو، جہاں تہاں تنہا
نہ ہوویں یار تو کیا زندگی ہے اے حاتم
“چہ حظ کند خضرؑ از عمرِ جاوداں تنہا”

شاہ حاتم
(شیخ ظہور حاتم​)

No comments:

Post a Comment