پاؤں نہیں بدلے تو یہ زنجیر بدل جائے گی
ایک نہ اک دن قیدی کی تقدیر بدل جائے گی
یونہی بدلتا رہا اگر تو کوئی نہ کوئی لفظ
دھیرے دھیرے تو ساری تحریر بدل جائے گی
اس نے کہا تھا خواب بدلنا تو مشکل ہے بہت
اچھا تم کہتے ہو تو تعبیر بدل جائے گی
پاؤں نہیں بدلے تو یہ زنجیر بدل جائے گی
ایک نہ اک دن قیدی کی تقدیر بدل جائے گی
یونہی بدلتا رہا اگر تو کوئی نہ کوئی لفظ
دھیرے دھیرے تو ساری تحریر بدل جائے گی
اس نے کہا تھا خواب بدلنا تو مشکل ہے بہت
اچھا تم کہتے ہو تو تعبیر بدل جائے گی
نامکمل غزل
تابش گیسوئے خم دار لیے پھرتا ہے
کوئی اس شہر میں تلوار لیے پھرتا ہے
بات تو یہ ہے کہ وہ گھر سے نکلتا بھی نہیں
اور مجھ کو سرِ بازار لیے پھرتا ہے
جسم کے ساتھ تو رہتا ہوں میں اس پار مگر
روح کے ساتھ وہ اس پار لیے پھرتا ہے
اپنی صورت کو بدلنا ہی نہیں چاہتا میں
اب کسی سانچے میں ڈھلنا ہی نہیں چاہتا میں
تم اگر مجھ سے محبت نہیں کرتے نہ سہی
ایسی باتوں سے بہلنا ہی نہیں چاہتا میں
یا مِرے پاؤں میں قوت ہی نہیں ہے اتنی
یا تِری راہ پہ چلنا ہی نہیں چاہتا میں
چپ رہوں گا تو زباں یوں ہی رہے گی بے کار
چپ رہوں گا تو زباں یوں بھی رہے گی بے کار
اور بولوں تو زباں کاٹ ہی لی جائے گی
کیوں نہ کچھ بول ہی لوں میں کہ پسِ قتلِ زباں
یہ تو افسوس نہ ہو گا کہ زباں رہتے ہوئے
مجھ کو اظہار کی جرأت نہ ہوئی
ہر لمحے میں صدیوں کا افسانہ ہوتا ہے
گردش میں جب سانسوں کا پیمانہ ہوتا ہے
ہم کو تو بس آتا ہے سانسوں کا کاروبار
کیا کھونا ہوتا ہے، اور کیا پانا ہوتا ہے
دل کی ضد پر اس سے ملنا پڑتا ہے ہر روز
اور پھر ساری دنیا کو سمجھانا پڑتا ہے
صحرا، کوئی بستی، کوئی دریا ہے کہ تم ہو
سب کچھ مِری نظروں کا تماشا ہے کہ تم ہو
لوٹ آئے ہیں صحرا سے سبھی لوٹنے والے
اس بار مِرے شہر میں اچھا ہے کہ تم ہو
تم ہو کہ مِرے لب پہ دعا رہتی ہے کوئی
آنکھوں نے کوئی خواب سا دیکھا ہے کہ تم ہو