Showing posts with label سرفراز خالد. Show all posts
Showing posts with label سرفراز خالد. Show all posts

Monday, 17 April 2023

پاؤں نہیں بدلے تو یہ زنجیر بدل جائے گی

 پاؤں نہیں بدلے تو یہ زنجیر بدل جائے گی 

ایک نہ اک دن قیدی کی تقدیر بدل جائے گی

یونہی بدلتا رہا اگر تو کوئی نہ کوئی لفظ

دھیرے دھیرے تو ساری تحریر بدل جائے گی 

اس نے کہا تھا خواب بدلنا تو مشکل ہے بہت

اچھا تم کہتے ہو تو تعبیر بدل جائے گی

Thursday, 18 November 2021

تابش گیسوئے خمدار لئے پھرتا ہے

 نامکمل غزل


تابش گیسوئے خم دار لیے پھرتا ہے

کوئی اس شہر میں تلوار لیے پھرتا ہے

بات تو یہ ہے کہ وہ گھر سے نکلتا بھی نہیں

اور مجھ کو سرِ بازار لیے پھرتا ہے

جسم کے ساتھ تو رہتا ہوں میں اس پار مگر

روح کے ساتھ وہ اس پار لیے پھرتا ہے

Friday, 12 November 2021

اپنی صورت کو بدلنا ہی نہیں چاہتا میں

 اپنی صورت کو بدلنا ہی نہیں چاہتا میں

اب کسی سانچے میں ڈھلنا ہی نہیں چاہتا میں

تم اگر مجھ سے محبت نہیں کرتے نہ سہی

ایسی باتوں سے بہلنا ہی نہیں چاہتا میں

یا مِرے پاؤں میں قوت ہی نہیں ہے اتنی

یا تِری راہ پہ چلنا ہی نہیں چاہتا میں

Monday, 8 November 2021

چپ رہوں گا تو زباں یوں ہی رہے گی بیکار

چپ رہوں گا تو زباں یوں ہی رہے گی بے کار


چپ رہوں گا تو زباں یوں بھی رہے گی بے کار

اور بولوں تو زباں کاٹ ہی لی جائے گی

کیوں نہ کچھ بول ہی لوں میں کہ پسِ قتلِ زباں

یہ تو افسوس نہ ہو گا کہ زباں رہتے ہوئے

مجھ کو اظہار کی جرأت نہ ہوئی

Sunday, 7 November 2021

ہر لمحے میں صدیوں کا افسانہ ہوتا ہے

 ہر لمحے میں صدیوں کا افسانہ ہوتا ہے

گردش میں جب سانسوں کا پیمانہ ہوتا ہے

ہم کو تو بس آتا ہے سانسوں کا کاروبار

کیا کھونا ہوتا ہے، اور کیا پانا ہوتا ہے

دل کی ضد پر اس سے ملنا پڑتا ہے ہر روز

اور پھر ساری دنیا کو سمجھانا پڑتا ہے

Friday, 23 July 2021

صحرا کوئی بستی کوئی دریا ہے کہ تم ہو

 صحرا، کوئی بستی، کوئی دریا ہے کہ تم ہو

سب کچھ مِری نظروں کا تماشا ہے کہ تم ہو

لوٹ آئے ہیں صحرا سے سبھی لوٹنے والے

اس بار مِرے شہر میں اچھا ہے کہ تم ہو

تم ہو کہ مِرے لب پہ دعا رہتی ہے کوئی

آنکھوں نے کوئی خواب سا دیکھا ہے کہ تم ہو