Thursday, 18 November 2021

تابش گیسوئے خمدار لئے پھرتا ہے

 نامکمل غزل


تابش گیسوئے خم دار لیے پھرتا ہے

کوئی اس شہر میں تلوار لیے پھرتا ہے

بات تو یہ ہے کہ وہ گھر سے نکلتا بھی نہیں

اور مجھ کو سرِ بازار لیے پھرتا ہے

جسم کے ساتھ تو رہتا ہوں میں اس پار مگر

روح کے ساتھ وہ اس پار لیے پھرتا ہے


سرفراز خالد

No comments:

Post a Comment