Thursday, 18 November 2021

طرز سخن بھی ٹوٹ گئی ان کے رو برو

 طرز سخن بھی ٹوٹ گئی ان کے رو برو

ایسی لٹی ہے حسن شناسوں کی آبرو

میں بھی سفر کی دھوپ میں سائے سے مطمئن

تُو بھی پھٹے لباس میں لگتا ہے سرخرو

دیکھا کسی نے جھانک کے چلمن سے جب ہمیں

محسوس یہ ہوا ہے بہاریں ہیں چار سو

پیچھے سے چاک چاک ہے ہوسف کا پیرہن

خطرے میں پڑ گئی ہے زلیخا کی آبرو

خیال کی رباعی ہے یہ صندلیں بدن

کیا ہے ہمارے سامنے دنیائے رنگ و بو

پوچھے گا وہ صلیب پہ جانے کا تجربہ

مسعود کو ہے پھر کسی عیسیٰ کی جستجو


مسعود جعفری 

No comments:

Post a Comment