طرز سخن بھی ٹوٹ گئی ان کے رو برو
ایسی لٹی ہے حسن شناسوں کی آبرو
میں بھی سفر کی دھوپ میں سائے سے مطمئن
تُو بھی پھٹے لباس میں لگتا ہے سرخرو
دیکھا کسی نے جھانک کے چلمن سے جب ہمیں
محسوس یہ ہوا ہے بہاریں ہیں چار سو
پیچھے سے چاک چاک ہے ہوسف کا پیرہن
خطرے میں پڑ گئی ہے زلیخا کی آبرو
خیال کی رباعی ہے یہ صندلیں بدن
کیا ہے ہمارے سامنے دنیائے رنگ و بو
پوچھے گا وہ صلیب پہ جانے کا تجربہ
مسعود کو ہے پھر کسی عیسیٰ کی جستجو
مسعود جعفری
No comments:
Post a Comment