Showing posts with label شہریار حیدر. Show all posts
Showing posts with label شہریار حیدر. Show all posts

Friday, 2 December 2022

اس کو نہیں ہے ڈر کسی چشم سیاہ کا

 اس کو نہیں ہے ڈر کسی چشمِ سیاہ کا

یہ دل تو اک ملنگ ہے اس خانقاہ کا

میں تو یہاں پہ رند ہوں، مستی میں مست ہوں

زاہد سے جا کے پوچھ لیں مطلب گناہ کا

جس آنکھ نے سکھائی ہے مصرع گری ہمیں

حصہ اسے بھی جاتا ہے شعروں پہ واہ کا

Friday, 18 December 2020

موسم کی بات کیوں سنیں کیا دلکشی کریں

 موسم کی بات کیوں سنیں، کیا دلکشی کریں

دیکھیں تجھے یا شام کی منظر کشی کریں 

صاحب! ہمارے واسطے میخانہ آپ ہیں 

آنکھیں ذرا ملائیں تو ہم مے کشی کریں 

ابرو سے یہ کہو کہ سنبھلنے کا وقت دیں 

ہو جائے دل بحال تو لشکر کشی کریں 

Wednesday, 16 December 2020

تم کو اندازہ نہیں ہے آنکھ کی یلغار کا

 تم کو اندازہ نہیں ہے آنکھ کی یلغار کا 

اس سے بے شک کام لے لو جانِ جاں تلوار کا 

اک سراپے سے ملے ہیں ساری شکلوں کے سراغ 

مستطیلیں، زاویے اور دائرہ پرکار کا 

تیرا آنچل دیکھ کر یہ اب تلک سکتے میں ہے 

دیکھ کیسے منہ کھلا ہے سامنے دیوار کا 

اپنا کیا ہے جس کو پرکھا ہر اک نے حیران کیا

 اپنا کیا ہے، جس کو پرکھا ہر اک نے حیران کیا 

پھول سےٹھوکر کھا کر آئے، پتھر نے احسان کیا 

جانے کیسا منتر پھونکا یاد کی جادوگرنی نے 

جو ہلکان نہیں ہوتے تھے ان کو بھی ہلکان کیا 

تم کو دیکھ کے پھینک آئے ہیں نیلم کو ہم نیلم میں 

تم نے سرخی سے چمکا کر ہونٹوں کو مرجان کیا 

Monday, 14 December 2020

سوچا جو تیرا نام طبیعت سنبھل گئی

 سوچا جو تیرا نام طبیعت سنبھل گئی

لیکن ترے خیال میں چائے ابل گئی

اب عشق بھی زمیں پہ بجاتا ہے تالیاں

اک وصل کے مدار میں پہلی شٹل گئی

کہہ دو یہ اپنے خواب سے چھکے پہ زور دے

اب دور تیز آ گیا، سنگل ڈبل گئی

Monday, 7 December 2020

میرے ہوتے ہوئے لاحول نہیں بن سکتا

میرے ہوتے ہوئے لاحول، نہیں بن سکتا

یار یہ دل ہے، یہ کشکول نہیں بن سکتا

ایسی آنکھوں کا کرے کون بھروسا جن سے

موڈ بن سکتا ہے، ماحول نہیں بن سکتا

تجھ کو میرا نہیں بننا ہے تو چھپتا مت پھر

بس مرے سامنے آ، بول! نہیں بن سکتا

Sunday, 6 December 2020

دل سا دشمن جو کہ اپنا یا کسی کا نہ بنے

 دل سا دشمن جو کہ اپنا یا کسی کا نہ بنے

تجھ کو دیکھے تو ترے حسن کا دیوانہ بنے

بس، کہیں ایک جگہ بیٹھ جا آنکھیں لے کر

کیا ضروری ہے ترے شہر میں مے خانہ بنے

عشق دیکھے جو ترے پاؤں، بنے وہ جوتا

جب ترے ہاتھ دکھاؤں تو وہ دستانہ بنے