اس کو نہیں ہے ڈر کسی چشمِ سیاہ کا
یہ دل تو اک ملنگ ہے اس خانقاہ کا
میں تو یہاں پہ رند ہوں، مستی میں مست ہوں
زاہد سے جا کے پوچھ لیں مطلب گناہ کا
جس آنکھ نے سکھائی ہے مصرع گری ہمیں
حصہ اسے بھی جاتا ہے شعروں پہ واہ کا
اس کو نہیں ہے ڈر کسی چشمِ سیاہ کا
یہ دل تو اک ملنگ ہے اس خانقاہ کا
میں تو یہاں پہ رند ہوں، مستی میں مست ہوں
زاہد سے جا کے پوچھ لیں مطلب گناہ کا
جس آنکھ نے سکھائی ہے مصرع گری ہمیں
حصہ اسے بھی جاتا ہے شعروں پہ واہ کا
موسم کی بات کیوں سنیں، کیا دلکشی کریں
دیکھیں تجھے یا شام کی منظر کشی کریں
صاحب! ہمارے واسطے میخانہ آپ ہیں
آنکھیں ذرا ملائیں تو ہم مے کشی کریں
ابرو سے یہ کہو کہ سنبھلنے کا وقت دیں
ہو جائے دل بحال تو لشکر کشی کریں
تم کو اندازہ نہیں ہے آنکھ کی یلغار کا
اس سے بے شک کام لے لو جانِ جاں تلوار کا
اک سراپے سے ملے ہیں ساری شکلوں کے سراغ
مستطیلیں، زاویے اور دائرہ پرکار کا
تیرا آنچل دیکھ کر یہ اب تلک سکتے میں ہے
دیکھ کیسے منہ کھلا ہے سامنے دیوار کا
اپنا کیا ہے، جس کو پرکھا ہر اک نے حیران کیا
پھول سےٹھوکر کھا کر آئے، پتھر نے احسان کیا
جانے کیسا منتر پھونکا یاد کی جادوگرنی نے
جو ہلکان نہیں ہوتے تھے ان کو بھی ہلکان کیا
تم کو دیکھ کے پھینک آئے ہیں نیلم کو ہم نیلم میں
تم نے سرخی سے چمکا کر ہونٹوں کو مرجان کیا
سوچا جو تیرا نام طبیعت سنبھل گئی
لیکن ترے خیال میں چائے ابل گئی
اب عشق بھی زمیں پہ بجاتا ہے تالیاں
اک وصل کے مدار میں پہلی شٹل گئی
کہہ دو یہ اپنے خواب سے چھکے پہ زور دے
اب دور تیز آ گیا، سنگل ڈبل گئی
میرے ہوتے ہوئے لاحول، نہیں بن سکتا
یار یہ دل ہے، یہ کشکول نہیں بن سکتا
ایسی آنکھوں کا کرے کون بھروسا جن سے
موڈ بن سکتا ہے، ماحول نہیں بن سکتا
تجھ کو میرا نہیں بننا ہے تو چھپتا مت پھر
بس مرے سامنے آ، بول! نہیں بن سکتا
دل سا دشمن جو کہ اپنا یا کسی کا نہ بنے
تجھ کو دیکھے تو ترے حسن کا دیوانہ بنے
بس، کہیں ایک جگہ بیٹھ جا آنکھیں لے کر
کیا ضروری ہے ترے شہر میں مے خانہ بنے
عشق دیکھے جو ترے پاؤں، بنے وہ جوتا
جب ترے ہاتھ دکھاؤں تو وہ دستانہ بنے