Sunday, 6 December 2020

دل سا دشمن جو کہ اپنا یا کسی کا نہ بنے

 دل سا دشمن جو کہ اپنا یا کسی کا نہ بنے

تجھ کو دیکھے تو ترے حسن کا دیوانہ بنے

بس، کہیں ایک جگہ بیٹھ جا آنکھیں لے کر

کیا ضروری ہے ترے شہر میں مے خانہ بنے

عشق دیکھے جو ترے پاؤں، بنے وہ جوتا

جب ترے ہاتھ دکھاؤں تو وہ دستانہ بنے

تجھ کو لے جائے کسی دل میں جو انجان سی رہ

اس کو پھر یہ بھی دعا دے کہ وہ رستہ نہ بنے

عشق ڈٹ جائے تو بن جائے کوئی تاج محل

عشق مٹ جائے، بکھر جائے، تو تہہ خانہ بنے


شہریار حیدر

No comments:

Post a Comment