نہیں جو بنتا بنانے کی بات ہو رہی ہے
کہ پھر سے چاک گھمانے کی بات ہو رہی ہے
میں دیکھ لوں گا انہیں جب گرانے آئیں گے
ابھی تو پیڑ گرانے کی بات ہو رہی ہے
یہ اتنا سادہ نہیں ہے معاملہ مرے دوست
بہت سے لوگ بچانے کی بات ہو رہی ہے
سبھی نے مل کے جسے بستی سے نکالا تھا
اب اس کو ڈھونڈ کے لانے کی بات ہو رہی ہے
میں سوچ میں ہوں کہ ہجرت کروں یا لڑ جاؤں
تمام شہر جلانے کی بات ہو رہی ہے
وہ جن سے حسرتِ تعمیر چھین لی گئی ہو
پھر ان کو خواب دکھانے کی بات ہو رہی ہے
جو اپنے ہاتھ پہ سورج اٹھائے پھرتا ہے
اسے چراغ دکھانے کی بات ہو رہی ہے
پھر ایک پتلی تماشہ لگایا جا رہا ہے
پھر انگلیوں پہ نچانے کی بات ہو رہی ہے
جو بات کرتا ہے سر کو اٹھا کے چلنے کی
اسی کو نیچا دکھانے کی بات ہو رہی ہے
عباس مرزا
No comments:
Post a Comment