Sunday, 6 December 2020

نہیں جو بنتا بنانے کی بات ہو رہی ہے

 نہیں جو بنتا بنانے کی بات ہو رہی ہے

کہ پھر سے چاک گھمانے کی بات ہو رہی ہے

میں دیکھ لوں گا انہیں جب گرانے آئیں گے

ابھی تو پیڑ گرانے کی بات ہو رہی ہے

یہ اتنا سادہ نہیں ہے معاملہ مرے دوست

بہت سے لوگ بچانے کی بات ہو رہی ہے

سبھی نے مل کے جسے بستی سے نکالا تھا

اب اس کو ڈھونڈ کے لانے کی بات ہو رہی ہے

میں سوچ میں ہوں کہ ہجرت کروں یا لڑ جاؤں

تمام شہر جلانے کی بات ہو رہی ہے

وہ جن سے حسرتِ تعمیر چھین لی گئی ہو

پھر ان کو خواب دکھانے کی بات ہو رہی ہے

جو اپنے ہاتھ پہ سورج اٹھائے پھرتا ہے

اسے چراغ دکھانے کی بات ہو رہی ہے

پھر ایک پتلی تماشہ لگایا جا رہا ہے

پھر انگلیوں پہ نچانے کی بات ہو رہی ہے

جو بات کرتا ہے سر کو اٹھا کے چلنے کی

اسی کو نیچا دکھانے کی بات ہو رہی ہے


عباس مرزا

No comments:

Post a Comment