Sunday, 6 December 2020

چل پڑی کیسی ہوا آپ نہیں سمجھیں گے

 چل پڑی کیسی ہوا آپ نہیں سمجھیں گے

کون ہے کس کا خدا آپ نہیں سمجھیں گے

میں سمجھتا تھا سمجھتا ہوں سبھی غم اس کے

پھر مجھے اس نے کہا؛ آپ نہیں سمجھیں گے

بے سکونی میں اداسی کا سمندر مل کر

دل مرا کیسے بنا، آپ نہیں سمجھیں گے

آپ نے چھوڑ دیا، کیسے سمجھ سکتے ہیں

آپ نے چھوڑ دیا، آپ نہیں سمجھیں گے

ایک آواز نے تحریک اسے دینی ہے

خامشی دے گی صدا، آپ نہیں سمجھیں گے

کس طریقے سے محبت میں ملا ہے یہ کمال

یہ سفر کیسے ہوا، آپ نہیں سمجھیں گے


عاجز کمال

No comments:

Post a Comment