چل پڑی کیسی ہوا آپ نہیں سمجھیں گے
کون ہے کس کا خدا آپ نہیں سمجھیں گے
میں سمجھتا تھا سمجھتا ہوں سبھی غم اس کے
پھر مجھے اس نے کہا؛ آپ نہیں سمجھیں گے
بے سکونی میں اداسی کا سمندر مل کر
دل مرا کیسے بنا، آپ نہیں سمجھیں گے
آپ نے چھوڑ دیا، کیسے سمجھ سکتے ہیں
آپ نے چھوڑ دیا، آپ نہیں سمجھیں گے
ایک آواز نے تحریک اسے دینی ہے
خامشی دے گی صدا، آپ نہیں سمجھیں گے
کس طریقے سے محبت میں ملا ہے یہ کمال
یہ سفر کیسے ہوا، آپ نہیں سمجھیں گے
عاجز کمال
No comments:
Post a Comment